Monday, 18 February 2013

حکمران نہیں ۔۔ نوجوان غدار ہیں


اب نوارد کہو ۔۔ نوسکھیا ۔۔ یا پھر کچھ بھی ۔۔۔ بھیا منصف منصف ہوتا ہے ۔۔۔ سمجھے منا ۔۔۔ خیر زمانہ طالبعلمی میں۔۔ جو بڑی دیر میں ختم ہوا، اور کچھ ساتھیوں کا ابھی تک چل رہا ہے ۔۔۔ تو میں بات کر رہا تھا زمانہ طالبعلمی میں، جب جب مباحثہ یا تقریری مقابلہ میں ہار کا سامنہ کرنا پڑا، تب تب سب سے زیادہ غصہ منصف پہ ہی آتا تھا ۔۔۔۔ لیکن پھر کسی نے مجھے یہ شعر سنایا

ہنسی آتی ہے مجھے فطرت  انسان پر
غلطی خود کرے اور الزام دھرے شیطان پر

مجھے یاد ہے، آرٹس کونسل کا وہ مباحثہ، کہ جس کی قرارداد تھی ۔۔۔ ہم آزاد ہیں ۔۔۔ اف اوف ۔ فیصل کریم بھائی نے زبردست خون آشام تقریر تیار کی، اور اوپر سے دو دن پہلے یوٹیوب پہ ایک ہندو لڑکی کی جانب سے پاکستان کی شان میں ایک گستاخانہ تقریر دیکھ لی، بس جاگ گئی حب الوطنی، اور ایسی جاگی کہ پوری نظم جو لڑکی نے پڑھی تھی پاکستان کیخلاف، اس کو کردیا بھارت کیخلاف ۔۔۔ حسب عادت رات دس بجے راحیل کو فون کیا ۔۔۔ رکیں رکیں، اب دیکھیں کتنی خوبصورت عادت ہے، کہ جاتے لڑکپن اور آتی جوانی کے اس زمانے میں ایک لڑکا، ایک لڑکے کو فون کررہا ہے، اور تقریر سنا رہا ہے ۔۔ اس عمر میں تو پتہ نہیں لڑکے ۔۔۔ کیا کیا کرجاتے ہیں، اور مسئلہ یہ ہے کہ مجھتے پتہ ہے کہ کیا کیا کرجاتے ہیں ۔۔ خیر جانے دیں، میرا دوبارہ پٹنے کا کوئی پلان نہیں ۔۔ ہاں تو خیر رات دس بجے راحیل کو فون کیا، اور جوش میں تقریر سنائی ۔۔۔ آگے سے واہ واہ ۔۔ اعلٰی اعلٰی ۔۔۔ لوٹ لیا کی صدائوں نے تو بس ۔۔۔۔۔۔ ماحول کو ایسا گرما دیا ۔۔ کہ فیصل صاحب ساتویں آسمان پہ ۔۔۔ اور اگلے دن پہنچ گئے آرٹس کونسل ۔۔۔ باری آئی ۔۔۔ اور کوئی دھواں دار تقریر کی ۔۔ اور نتیجہ کیلیئے عابد بھائی اسٹیج پہ تشریف لائے ۔۔ اسٹیج سے یاد آیا ۔۔ عابد بھائی ۔۔ یار آپ منگنی میں نہیں آئے ۔۔ یقین مانیں وہاں بھی اسٹیج پہ ہی تھا میں ۔۔۔ ہاں بس ڈائس کی کمی تھی، تو خیر ہم بات کرہے تھے نتیجہ کی ۔۔۔ پانچواں انعام راحیل اختر، چوتھا قاسم سلیم، تیسرا رمشا کنول، دوسرا یاد نہیں، اور پہلا انعام ۔۔۔۔۔۔ اور دل کی دھڑکن تیز ۔۔۔۔ جاتا ہے ۔۔۔۔ ہارٹ اٹیک ہونے کو ہے  ۔۔۔۔۔ عمبرین تبسم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل کے ارماں ۔۔۔ آنسووں میں ۔۔۔۔۔

اب تقریر بھی ٹھیک تھی، شعر بھی بھر بھر کے ڈالے تھے کلو کے حساب سے، اور آخری نظم نے تو ایوان ہلا دیا تھا بھئی ۔۔ پھر کیا مسئلہ ہوا ۔۔۔ فیصل صاحب روٹھ کے باہر ۔۔۔۔۔۔ اور باہر نکلتے ہی ملے ۔۔۔ عابد بھائی ۔۔۔ یار یہ کیا ہے؟ عابد بھائی مجھے کیوں نہیں ملا؟ آخر کیا غلطی تھی میری؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اتنی اچھی تقریر تو تھی؟؟؟؟ اور آگے سے جواب ملا، بیٹے تقریر بہت عمدہ تھی، بس مسئلہ یہ تھا کہ یہ تقریری مقابلہ نہیں، مباحثہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور فیصل صاحب کلین بولڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے اگر میں اس دن کلین بولڈ نہ ہوتا ۔۔۔ تو آگے آنے میچوں میں مین آف دی میچ کبھی نہ ہوتا ۔۔۔۔ واہ واہ ۔۔۔ کیسا دیا ۔۔۔۔۔۔

اب جیسا بھی دیا ہو، میں اب یہ چاہتا ہوں کہ آنے والے اور والی مقرر و مقررہ حضرات، کلین بولڈ ہونے سے پہلے ہی اس کھیل کے اسرار و رموز سے واقف ہوجائیں ۔۔ اور اس کے لیئے میں نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے، کہ جہاں بھی منصف جاوں، وہاں سے واپسی پہ بچوں کو چن چن کے بتاوں کہ بیٹا ۔۔آپ نے یہ کیا، آپ نے وہ کیا ۔۔۔۔ اور بات سب تک پہنچ جائے، اس لیئے بلاگ کا سہارا لے رہا ہوں ۔۔امید ہے آپ لوگ اسے نہ صرف سراہیں گے بلکہ مثبت طریقہ سے استعمال میں لاکر اپنی غلطیوں کو غلطیاں نہ رہنے دیں ۔۔۔۔۔

یہ اس قسم کا پہلا بلاگ لکھ رہا ہوں، اور جو مققر اس مقابلہ میں شریک تھے، ان کا نام لیکر ان کی غلطیاں اور اچھایئاں بیان کر رہا ہوں، اگر آپ لوگوں کو نام لینا مناسب نہ لگے تو ضرور ٹوک دیجیئے گا ۔۔۔۔ کون سا آپ کے ٹوکنے سے میں رکنے والا ہوں ۔۔۔ ازراہ مذاق جناب ۔۔۔۔

کچھ دنوں پہلے سر سید خواتین کالج میں مباحثہ میں منصفی کے فرائض سرانجام دینے کا موقع ملا، اور میرے لیئے تھوڑا جذباتی لمحہ تھا کیوں کہ یہ ہی وہ کالج تھا کہ جہاں ۔۔ فوج سے واپس آنے کے بعد میں نے مباحثوں میں جیت کا آغاز کیا تھا ، لگاتار تین سال تک ٹیم ٹرافی ۔۔۔ کیا زبردست دور تھا ۔۔۔۔ اب جذبات تو اچھے ہوتے ہیں لیکن جذابتی ہونا اچھا نہیں ہوتا، اس لیئے جذبات کے اس دھارے کو میں یہیں پہ روکتا ہوں اور منصفی شروع کرتا ہوں

قرارداد تھی ۔۔۔۔حکمران نہیں ۔۔ نوجوان غدار ہیں ۔۔۔

پہلی ٹیم تھی آغا خان کالج سے ۔۔۔۔۔ حرا عباس ۔۔ آپ نے بات کی ینگ ڈاکٹرز کی، اس کے بعد اسلامی اقدار ۔۔۔ ویلینٹائینز ڈے ۔۔۔ اور میچ فکسنگ ۔۔ یہ سب آج کے نوجوان کرتے ہیں ۔۔۔۔ جناب ینگ ڈاکٹرز جو کر رہے ہیں، اسے آپ بدمعاشی تو کہہ سکتی ہیں، لیکن غداری نہیں، کیوں کہ مریضوں کا علاج نہ کر کے اور اپنے سینیئرز کی ٹھکائی کر کے وہ بدمعاشی تو کرہے ہیں، مگر اپنی تنخواہ بڑھانے کے لئے دھرنا دے رہے ہیں، جو ان کا حق ہے ۔۔۔

ماہم منور ۔۔۔ آپ نے بات کی سوئس اکاونٹس کی اور کرپشن کی جو حکمران کرتے ہیں، تو یہ کرپشن، سزا کے لائق تو ہے، لیکن وہ ہی بات ،، کے غداری نہیں ۔۔۔ پھر آپ نے عوام اور حکمران کا موازنہ کیا ۔۔ قرارداد میں کہیں بھی، عوام کا لفظ نہیں، نوجوان کا لفظ ہے ۔۔۔

لیکن آپ دونوں کی روانی بہت اچھی تھی ۔۔ اور تلفظ بھی بہترین تھا ۔۔۔۔ بس ایک بات یاد رکھیں، کہ گاڑی نہ ہی چوتھے گئیر میں اسٹارٹ ہوتی ہے، اور نہ ہی زیادہ دیر تک ایک گئیر میں چل سکتی ہے ۔۔۔

پھر ڈی یو ایچ ایس کی ٹیم تھی ۔۔۔ مریم اکرام ۔۔ آپ نے بہت سی مثالیں ماضی سے دیں کہ ہمارے نوجوان تو بت شکن تھے، ٹیپو سلطان ، خالد بن ولید اور محمد بن قاسم جیسے تھے ۔۔۔ کیا آپ کو پتہ ہے، کہ بت شکن محمود غزنوی نے جب سومناتھ کا مندر فتح کیا، تو اس وقت ان کی عمر کیا تھی؟ اور جب خالد بن ولید کی تلوار سے کفار کانپنا شروع ہوئے تو اس وقت ان کی عمر کیا تھی؟ یہ سب نوجوانی سے بہت آگے نکل چکے تھے ۔۔۔
اچھی بات یہ تھی کہ آپ کا تلفظ بھی صاف ہے اور روانی بھی اچھی ہے ۔۔۔۔ اس کو تھوڑا اور پالش کرلیں تو اچھا رہے گا ۔۔۔

آپ کیساتھ تھیں نرمین خالد ۔۔۔۔ آپ نے کیڑا کھائے ہوئے پودے کی اچھی مثال دی، آپ نے نوجوان اور حکمران دونوں کو اچھا ڈیفائن کیا ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔۔ نرمین ۔۔۔ یوٹیوب میرے پی سی پہ بھی کھلتا ہے ۔۔ امید ہے آپ سمجھ گئی ہوں گی ۔۔۔۔۔

اگلی ٹیم تو نیہں یاد، ہاں مقررہ کا نام ہے صغرا نواز اور سمعیہ عطیق ۔۔ اگر آپ لوگ فیس بک پہ ہیں، تو مجھے نوٹیافائی کردیں تاکہ میں آپ کے منفی و مثبت پہلو بتاسکوں

اگلی ہیں انم کرامت اور ارومہ، آپ سے بھی مندرجہ بالا درخواست ہے

پھر ہیں حیا شاہ ۔۔۔۔ آپ نے نوجوان اور حکمران کا اچھا موازنہ کیا، مگر استفادہ حاصل نہیں کیا جاتا، استفادہ کیا جاتا ہے، حاصل اضافی لادیا آپ نے ۔۔۔۔ یعنی ایکسٹرا ۔۔۔ اور ایکسٹرا صرف عائشہ سہیل پہ اچھا لگتا ہے ۔۔۔ اس کے علاوہ آپ نے ٹارگٹ کلر اور بھٹہ خوری کرنے پہ نوجوان کو غدار ٹہرایا ۔۔۔ ٹارگٹ کلنگ یعنی قتل کرنے والے کو قتل کی سزا دی جاتی ہے، غداری کی نہیں ۔۔۔۔
آپ کے ہمراہ تھیں آسما نواز ۔۔۔۔ آپ نے تنور والے لڑکے کی مثال دی ۔۔۔۔ آپ کو مزید اعتماد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تھوڑی اور روانی لائیں ۔۔۔۔

اگلے تھے حسن طاہر ۔۔۔۔ تھوڑا سیریئیس ہو کہ مقابلوں میں آیا کریں دوست ۔۔ برا نہ مانیئے گا ۔۔۔آپ نے شروعات اچھی کی ۔۔ مگر اس کے بعد ۔۔ یہ کیا ہوا ۔۔ کیسے ہوا ۔۔۔۔ کب ہوا ۔۔ کیوں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو آپ کیساتھ تھے ۔۔۔ انھیں بھی یہ ہی مشورہ ہے

اب ہیں صبا انجم ۔۔ آپ نے بھی راہبر کو اچھی طریقے سے بتلایا ۔۔۔ اور ماضی سے نوجوانوں کے کردار کو آج کے نوجوان کیساتھ ملایا ۔۔۔ مگر قرارداد میں ماضی نہیں ہے ۔۔۔ نہیں ہے نہیں ہے نہیں ہے ۔۔۔ اور آپ کیساتھ تھیں مہوش ۔۔۔ مہوش آپ نے یونس بٹ کی مثال دی ۔۔ سمجھ نہیں آئی ۔۔ اور شرمین عبید چنئیی کون سا نام ہے بھلا؟

اب پی این ای سی کی ٹیم ۔ ام ایمن ۔۔۔ خاتون ۔۔۔۔ مائیک کون ٹھیک کرے گا ۔۔۔ میں ؟ یا پھر کوئی اور ۔۔ آپ کی آدھی گفتگو ۔۔۔ مائیک ایڈجسٹمنٹ کی نظر ہوگئی ۔۔۔ آگے میں کیا کہوں ۔۔ لیکن پھر آپ نے اچھا کیا ۔۔۔ اور آپ کیساتھ طالب ۔۔ جو شروع میں تھوڑا ادھر ادھر ےو ہوئے ۔۔ مگر پھر مواد کو مظبوطی سے پکڑا اور کیا خوب پکڑا ۔۔۔۔ زبردست ۔۔۔

اچھا ہی طلحہ سلیم اور سید ضیاالدین ۔۔۔ سر میں کچھ کہوں یا ؟؟؟؟؟؟ آئیندہ کیلئے خیال رکھیں آپ دونوں اچھا بول سکتے ہیں یار

اب ہیں سلمان یوسف ۔۔ ۔ بھائی ہندی و سنسکرت میں مقابلہ مباحثہ نہیں تھا ۔۔۔۔ سنگھاسن ۔۔۔۔ دوش ۔۔۔ اور پھر بیچ میں انارکی ۔۔۔۔۔

اب ہیں حسان بٹ ۔۔۔ جنھوں نے بڑے عرصہ بعد محنت کی ۔۔۔ شکریہ آپ کا ۔۔۔۔ آپ نے قراردر کو وزن کے حساب سے مسترد کیا ۔۔ اچھا کیا ۔۔۔ اور یہ ہی دوسروں سے آپ کو امتیاز کرگئی ۔۔۔۔

رافعیہ اعوان آپ نے پورا ایک منٹ چھوڑا ۔۔ اور پھر بعد میں ہمیں نہیں چھوڑا ۔۔۔۔ آپ اپنی غلطیوں پہ غور کریں ۔۔ نہ کہ منصفی پہ شک

جویریہ اختر ۔۔۔ آپ نے بھی اچھا کیا، اور روانی اچھی رہی ۔۔ آپ کو پہلی اور آخری مقررہ رہیں جس نے غداری کو ڈیافئن کیا ۔۔۔ یعنی آرٹیکل چھ ۔۔۔ پھر زلزلہ زدگان شاہ زہب اور دیگر مثالیں بھی دیں ۔۔۔ اچھا رہا

ابو طلحہ ۔۔ ایک الیکشن والے نکتہ کو آپ نے ڈیڑھ منٹ دیا ۔۔ ڈیڑھ منٹ بہت ہوتا ہے ۔۔۔ اتنا لمبا نہ کھینچو یار

ثوبان بیگ ۔۔۔ زبردست روانی ۔۔۔ اور ایک کے بعد ایک دلائل ۔۔۔ اچھا رہا

شہزادی کنول ۔۔۔۔۔ اس بار دھیمی رہی ۔۔۔

بھائی ۔۔۔ اگر اوپر کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت کیوں کہ دل آزاری کا کہیں سے بھی ارادہ نہیں تھا ۔۔ یہ بس ایک کوشش تھی، آپ سب تک ایک ہی وقت میں ایک ساتھ پہنچنے کی ۔۔ اور یہ بتانے کی کیا کچھ اس دن رہ گیا جس کی وجہ سے آپ نہ جیت سکے ۔۔۔۔

قرارداد میں نہ ہی لفظ پاکستان کے نوجوان اور حکمران تھا، نہ ہی لفظ تھا یا ہوگا ۔۔۔۔۔۔ لفظ تھا ہیں، یعنی حمکران نہیں نوجوان غدار ہیں ۔۔۔ لفظ ہیں آج کے زمانے کی بات کرتا ہے ، تو پھر ماضی کی مثالیں؟ غداری کو اتنا زیادہ کسی نے بیان نہیں کیا ۔۔۔۔ شاہ رخ اور کترینہ کو فالو کرنے والا نوجوان بے راہ روی کا شکار تو ہوسکتا ہے، مگر غدار کیسے؟ یہ کسی نے نہیں بتایا ۔۔۔ اور اگر حکمران غدار تو کسی نے مارشل لا کا تذکرہ نہیں کیا؟ آئین کو توڑنے کا ذکر نہیں کیا؟ یہ وہ تمام باتیں ہیں جن کا خیال آپ کو رکھنا چاہیئے  تھا ۔۔ لیکن کوئی بات نہیں ۔۔۔ اگلی بار صحیح ۔۔۔۔۔

بھائی۔۔ اگر کسی کو بھی برا لگا ہو ۔۔ تو فیس بک پہ گالیاں مت دینا ۔۔۔۔ بس کہہ دینا آئیندہ ایسی جرات نہیں ہوگی ۔۔ اور جو لوگ سراہنا چاہیں ۔۔۔ تو جلدی کریں یار کہیں آپ کا مائینڈ چینج نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔

اپنے رائے سے ضرور آگاہ کریں

شکریہ