Monday, 4 March 2013

فیصل کریم مردہ باد، فیصل کریم نامنظور


فیصل  کریم مردہ باد، فیصل کریم نامنظور، ظلم کے یہ ظابطہ ہم نہیں مناتے، فیصل کریم نئے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے،اس لئے مردہ باد مردہ باد،،،، میں ان اقسام کے نعروں سے ہی ڈرا ہوں نہ ڈرتا ہوں، نہ ہی کوئی فرق 
پڑتا ہے ۔۔۔۔

کیوں کہ، جو میں ڈائس پہ تقریر کرتے ہوئے بولتا ہوں، وہ ڈائس سے نیچے آکر نہ بولوں، تو قول و فعل میں تضاد ہو، اور جس کے قول و فعل میں تضاد ہو ۔۔ اسے کیا کہتے ہیں، یہ آپ سب جانتے ہیں ۔۔۔ کچھ دنوں سے مختلف مقابلوں میں جانا ہو رہا ہے،  بحیثیت منصف، اور یقین مانیں، کہ دل بہت کڑھ رہا ہے ۔۔۔ اس وجہ سے نیہں کہ لوگ ہار جاتے ہیں، یا اچھی تقاریر سننے کو نہیں ملتیں، یا کچھ اور، بلکہ اس لیئے، کہ تقاریر ہارنے کے بعد جو رونا دھونا، الزام تراشی اور میں نہ مانوں والی رٹ لگی ہوئی ہے ۔۔ غلط ہے ۔۔۔۔ وہ ہی پرانی تقاریر، وہ ہی پرانے پتہ جات ۔۔۔۔ اور اگر اصلاح کے لیئے کچھ کہیں، تو آگے سے سننے کو ملتی ہے ۔۔۔

 مجھےسمجھ نہیں آتا ۔۔ کہ یہ مباحثہ، صدر بازار میں لگی ہوئی لوٹ سیل کیوں بنتی جارہی ہے؟ کوئی بھی کچھ بھی بول کے چلا جائے، اور پھر یہ سمجھے واہ واہ کیا بولا ہے ۔۔۔۔ کبھی یو ٹیوب اسپانسرڈ تقاریر، کبھی پرانے پتہ جات، نہ اخبارات کا کوئی حوالہ، نہ ہی کسی اچھے ادیب کا کوئی تراشہ، نہ ہی نئے شعرا کا کوئی ٹکڑا ۔۔۔ تو بھائی باتیں نئے انقلاب کی، اور تقاریر وہ ہی پرانی ۔۔۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

 بات منظر نگاری یعنی ڈکلیمیشن کی ۔۔۔۔ بھائی اگر آپ نے ماحول بنا کر سامع کو سحر مین جکڑنا ہے تو ممتاز مفتی کو پڑھیں ۔۔۔ اگر براہ راست کردار کی منظر نگار کرنی ہے تو منٹو سے بہتر کوئی نہیں، اگر منظر نگاری میں رنج و الم، عشق و محبت، حب الوطنی و غداری کے مزید ثقیل رنگ بھرنے ہیں تو خلیل جبران حاضر ہیں، حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے تو اخبارات کا رخ کریں اور آرٹیکلز پڑھیں، تواریخ کے حوالہ جات کے لیئے نذیر لغاری کا آرٹیکل تو ہے ہی، حکومتی ارکان کو نشانہ بنانا ہے تو جیو حسن نثار ۔۔۔۔ پھر آتے ہیں شعرا پہ، اقبال کی جان چھوڑ دیں اور ان چند منظومات کی بھی ۔ تم نے ہر عہد میں ہر نسل سے غداری کی، آؤ کھیلیں دشمن دشمن، یہ بات عیاں ہے دنیا پہ 
ہم پھول بھی ہیں تلوار بھی ہیں، سولہ کروڑ بھکاری ہیں ۔۔۔ بس کریں ۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔۔

 اب بات یہ بھی ہے کہ یار، مجھے کیا فکر پڑی ہے، میں کیوں اپنا خون جلا رہا ہوں ۔۔۔۔ سر جی مجھے آپ کی نہیں، ان نئے آنے والے اسکول اور کالجز کے بچوں کی فکر ہے، جنھیں کل کو جامعات میں آکر باگ ڈور سنبھالنی ہے ۔۔۔ ایک مقرر صرف گفتار کا غاضی نہیں، کردار کا بھی غاضی ہوتا ہے، اور جب تک اس میں نئی چیزیں پڑھنے کا شوق پیدا نہیں ہوگا، اس کی کرادر کی تعمیر کیسے ممکن ہوگی؟
 تو اب جس جس کو نوارد کہنا ہے، نوسکھیا کہنا ہے، مردہ باد کے نعرے لگانے ہیں، ان کے لئے ۔۔۔

نوٹس ملیا ۔۔
 ککھ نہ ہلیا ۔۔۔ 
کی سوہنڑیا دا گلا کراں
 میں لکھ واری بسم اللہ کراں

Saturday, 2 March 2013

گوورنمنٹ کالج برائے خواتین کا مقابلہ منظر نگاری



تو اچھا مقرر، اچھا انسان ہوتا ہے ۔۔۔ پتہ نہیں میڈم شبنم نے یہ بات کیوں کی ۔۔ شاید ۔۔۔ انھوں نے جامعہ سے نہیں پڑھا ۔۔ یا جو مقرر اب وہاں ہیں، ان سے ان کا پالا نہیں پڑا، خیر میرا تو پیغام محبت ۔۔ جہاں تک پہنچے ؛)

سرکاری کالج برائے خواتین ناظم آباد میں مقابلہ جذباتی تقریر ہوا ۔۔۔ ارے یہ کیا؟؟ جذباتی تقریر؟

جی بھائی، اب تک جہاں جہاں بھی ڈکلیمیشن کا مطلب ڈھونڈھا، تو یہ ہی ملا، اور ٹھیک بھی ہے، جذبات سے بھرپور تقاریر سننے کو ملیں، اور بہت کم دیکھنے کو ملیں ۔۔ سمجھے ؟؟ نہیں؟؟

جب الفاظ آپ کے اپنے نہ ہوں، اور آپ لاکھ چیخ چلا لیں، تو بھی الفاظ آپ کے چہرے کا ساتھ نہیں دیں گے، آپ کے غصیلے الفاظ آپ کے ماتھے پہ بل نہیں ڈالیں گے، آپ کا مزاح آپ کے چہرے پہ نقلی مسکراہٹ لائے گا، حقیقی نہیں ۔۔۔ آپ کا دکھ نہ ہی آپ کے چہرے کو مغموم دکھائے گا، نہ ہی سامعین و حاضرین کی آنکھیں نم ہوسکیں گی ۔۔۔۔
تقریبآ ہر مقرر نے یہ ہی کیا، کہ جیسے بہاری زبان میں کہتے ہیں، بہت چیخم چلا کیا ۔۔۔ لیکن جذبات سے عاری ۔۔۔۔ اور وہ اسی لیئے کہ بہت سے لوگ خود نہیں لکھتے ۔۔۔ غلط ہے ۔۔۔ پھر بڑے بڑے لوگ یہ کہتے ہیں کہ بھئی میں نئے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہوں ۔۔ ہاں بھئی یہ تو میں غلط کرتا ہوں، کیوں کہ جس قوم کے لوگ، امتحان میں بھی دوسرے کا پرچہ دیکھ کے لکھیں، وہ تقریر خود سے ۔۔۔ کیسے J

سب سے پہلے علیزہ انم، آپ نے مزاحیہ مواد پیش کرنے کی کوشش کی، جس میں آپ نے پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی شکست، ان کا بیوٹی پارلر سے تیار ہونا، اور میرا کی نقل شامل تھا۔ میرا یا کسی اور کی نقل کے بارے میں تو جو عابد  بھائی کہہ گئے اس کے بعد مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، ہاں جہاں تک کرکٹ والے نکتہ کی بات ہے، آپ نے کہا کہ ٹیم چھٹی پوزیشن پہ آئی۔ ٹیم چھٹی نہیں ساتویں پوزیشن پہ آئی تھی، کیوں کہ بھارت کے ساتھ ٹیم چھٹی پوزیشن کا میچ ہار گئی تھی۔

پھر تھی آغا خان کی ٹیم، ماہم منور آپ اچھا بولیں ۔۔۔ اس کو جاری رکھیں، ہاں بس ایک آدھی جگہ کچھ اوپر نیچے ہوا تسلسل۔ اس کو آئیندہ سنبھال لیئجیئے گا۔

آپ کے ساتھ تھے محمد سمیع۔ وہ ہی بات۔ جب تک لفظ اپنے نہیں ہوں گے، تو انداز بھی نکھر کے سامنے نہیں آسکے گا۔

پھر تھے بحریہ کارساز سے شرجیل، موضوع تھا یہ جمہوریت ہے۔ آپ کے مواد اور انداز پہ کچھ بھی کہنے سے قبل، میں اس موضوع کے حوالے سے کچھ کہتا چلوں، کہ اگر بات جمہوریت کی کرنی تھی، تو اس نظام کی کرنی تھی، پاکستان کی نہیں۔ جمہوریت اور اس کے ثمرات و اثرات صرف پاکستان تک تو محدود نہیں ہیں ناں؟ تو پھر موضوع میں زیر بحث صرف پاکستان کو لانے سے مواد تھوڑا ادھورا رہ گیا۔ جہاں تک بات ہے آپ کے انداز کا تو آپ تسلسل تو اچھا ہے، مگر ڈیکلیمیٹری اسٹائل نہیں تھا۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس بات کو سمجھیں گے۔

پھر تھیں لاریب، مزاحیہ موضوع سب کہہ دو ۔۔ آپ کا مواد کم اور اشعار زیادہ تھے، پھر آپ نے ٹیچر کے میک اپ کے حوالے سے بھی ایک نکتہ اٹھایا۔ میں بحیثیت ایک شاگرد یہ سمجھتا ہوں کہ استاد کا احترام، چاہے وہ جیسا بھی ہو، لازم ہے۔ امید ہے کہ آپ اس بات کو مد نظر رکھیں گی، کیوں کہ جس نے آپ کو ڈائس پہ کھڑا ہونا سکھایا ہوگا، وہ بھی تو استاد ہی ہے!

ام ایمن ۔۔۔ کیوں کہ آپ نے خواہش ظاہر کی کہ میں سب کے سامنے آپ کے حوالے سے رائے نہیں دوں تو ۔۔ جو حکم

ثوبان بیگ ۔۔۔ خوشی ہوتی ہے، جب میرے شہر کے نئے مقرر، اچھا بولتے ہیں ۔۔۔۔ مواد میں دھڑا دھڑ ایک کے بعد واقعات تھے۔۔۔ جو سامعین کو اپنی طرف کھینچ رکھتی ہے۔ بس اگر اگلی بار کسی واقعہ سے مواد کا آغاز کیا جائے تو کیا ہی بات ہوجائے۔۔۔۔

اگلی تھیں ماہم فاطمہ، بیٹا آپ کا مکمل طور پہ مباحثہ والا انداز تھا۔ یاد رکھیئے گا جیسا دیس ویسا بھیس، یعنی اگر یہ مباحثہ کا مقابلہ ہوتا تو آپ کو مواد و انداز بہتر تھا، مگر یہ ڈکلیمیشن تھی۔

مہوش پٹیل، میرا خیال ہے آپ کو خود اندازہ ہوگا کہ آپ کی کہاں پہ غلطیاں ہوئی ہوں گی، مواد تو اچھا تھا، مگر آپ بہت بہت دھیمی رہیں۔ دھیما رہنے میں کوئی برائی نہیں۔۔ بلکہ میں خواتین مقرر میں ہمیشہ اس بات کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ جو خدا نے نسوانی آواز میں پتھر دل کو موم کردینے کی صلاحیت بخشی ہے، وہ مردانہ آواز میں نہیں۔ اور لڑکیاں اگر ڈائس پہ آ کر مردانہ وار چیخنا چلانا شروع کردیں تو عجیب سا لگتا ہے۔ ہاں لیگن دھیما بولنے میں اور بے اثر بولنے میں بڑا فرق ہے۔

آپ کیساتھ تھیں تسا احمد ۔۔۔ ویسے میں کسی کو یہ کہتا نہیں، لیکن اگلی بار مزاحیہ لکھنی ہو تو میں آپ کو لکھ کے دے دوں گا ۔۔۔۔ اسے آپ طنز مت سمجھیئے گا، کیوں تمام آنے والے مقابل میرے بہن بھائی جیسے ہیں، اور ایک بہن کے منہ سے ایسا مزاح میں نہیں سن سکتا۔ امید ہے آپ اس چیز کو مثبت طریقہ سے لے کر آگے بڑھیں گی۔۔۔

اگلی تھے حسان شاہ، مجھے تمھارا لکڑ ہظم پتھر ہظم والا پتہ، یاد ہوچکا ہے، اور برائے مہربانی اپنی گروتھ کو ایک ہی پتہ بار بار کہہ کہ مت روکو۔ تلفظ بہتر کرو۔۔۔

اور یہ ہی شکایت مجھے شہزادی کنول سے بھی ہے، بلیک اوباما کے بلیک شیپ کے بلیک واٹر ۔۔۔۔ بس!

اقبال ۔۔۔ آج بہتر بولے، لیکن استاد کا احترام جناب، برائے مہربانی ۔۔۔

رابعہ عثمان، شروعات تھوڑی ٹھنڈی رہی۔۔۔ پھر بیچ میں بہتری ہوئی، اور مجھے وہ والی تقریر یاد ہے جو فارمیسی میں آپ نے کی تھی، اس میں اور اس والی میں کافی فرق تھا۔ ٹیمپو تھوڑا نیچے تھا۔ اس کو اوپر کریں، یعنی جیسے جیسے تقریر آگے بڑھے، ویسے ویسے ٹیمپو کو بھی آگے بڑھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی ہیں جویریہ اختر، ٹون اور ٹیمپو اچھی اٹھائی، پھر اور اٹھائی، لیکن اس سے زیادہ جب بڑھانی تھی تو نہیں بڑھائی، اور اسی میں ختم کردی ۔۔۔۔ اس کا دھیان رکھیں ۔۔ اور ان واقعات کی منظر نگاری کریں، جو آپ کے سامع کو جا کے ۔۔۔ ٹھک کر کے لگے ۔۔ کیسے؟ ٹھک کر کے! سمجھیں؟

نور الصبا ۔۔۔ سنجیدہ موضوع میں آپ کا تسلسل بہت اچھا رہے گا ۔۔۔ تھوڑا تیزی میں بولیں آپ ۔۔۔ انگریزی میں کہتے ہیں اسٹریس اینڈ پاز ۔۔۔ یعنی جملوں میں جہاں ضروری ہے، وہاں رکیں ۔۔ اور لفظوں پہ اسٹریس
دے کہ ان میں جان ڈالیں ۔۔۔۔

بہت معذرت کے تھوڑا التوا کا شکار ہوا یہ بلاگ ۔۔۔۔ آخر میں اتنی سی
 بات کہ، بھائی میں منصف نہیں تھا ۔۔۔۔ جو افراد یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں نے کسی کو جان بوجھ کے انعام دے دیا، اور کسی کو نہیں دیا ۔۔۔ تومیرے بھائی ۔۔۔ سوچتے رہیں ۔۔۔۔۔ ویسے اتنی سوچ آپ مواد لکھنے اور
انداز بیاں پہ لگالیں، تو کیا ہی بات ہے ۔۔۔۔

پلان کے مطابق مجھے ایوان میں پہنچ کہ تھوڑی سی تقریر کرنا تھی، لیکن میرے وہاں پہنچنے پہ قابل احترام میڈم شبنم نے مجھے بھی منصفی کی ایک فائل تھما دی اور کہا بھئی میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ تم ججمنٹ کیسی کرتے ہو ۔۔ اور میں شرمندہ شرمندہ بہت ہی سینیئر ولی رضوی، انیس زیدی، اور برادرم اقرار الحسن کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔ یعنی میرے دیئے ہوئے کوئی بھی نمبر مقابلہ کے نتیجے پر اثر انداز نہیں ہوئے ۔۔۔ تو بھائی جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں نے کوئی دھاندھلی وغیرہ کی، یا نئے مقرر حضرات کیساتھ نا انصافی کی، وہ یہ رونا چھوڑیں ۔۔۔۔۔ بھوندو کہیں کے!
اگر کوئی مقرر ایسا رہ گیا ہو جس کا تذکرہ میں نہیں کیا ہو، تو پیشگی معذرت، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے حوالے سے بھی رائے دے سکتا ہوں ۔۔۔