ایسا ویسا نہیں ۔۔۔ صرف مقرر و مقررہ حضرات کے لیئے، ان کا اپنا لاونج ۔۔۔ جہاں ہے دلیل کی کرارے نمک پارے اور مزاح کی میٹھی چائے ۔ تو ۔۔ ہوجائے؟
Saturday, 13 April 2013
Tuesday, 9 April 2013
انصاف بیچتا ہوں ۔۔ خریدوگے؟
یہاں رحمان بکتا ہے یہاں بھگوان بکتا ہے
گلی میں چوک پہ ننگا، یہاں ایمان بکتا ہے
پی اے ایف کیٹ میں ہونے والا ذوالثانی مقابلہ تقریر ۔۔۔ گھن گرج کیساتھ شروع ہوا ۔۔۔ گرجتی برستی تقاریر نے مزید سماں باندھا ۔۔ اور بالآخر نتائج کے اعلان کیساتھ اختتام پذیر ہوا ۔۔۔۔ لائق تحسین وہ انتظامیہ کے جس نے آخری وقت تک امید نہیں چھوڑی ۔۔ اور اس سے بھی زیادہ داد کے مستحق وہ تمام شرکا جو کسی نہ کسی طرح اتنی دور صرف اس لیئے پہنچے ۔۔ کہ انھیں یقین تھا کہ آج جیتنا ہے ۔۔۔ یعنی یقین ۔۔ اپنی جیت پہ ۔ نہ کہ دوسروں کی ہار پہ ۔۔۔ کیوں کہ عقاب تو پھر شکار کر کے کھاتا ہے ۔۔۔ مردہ گوشت نوچنے والے گدھ کو کیا آیڈیالائیز کرنا ۔۔۔
خیر مقابلہ اچھا رہا ۔۔۔ مقابلے کبھی برے بھی ہوا کرتے ہیں کیا؟؟؟ ہاں جی بالکل ہوا کرتے ہیں ۔۔ لیکن ہم اچھے اچھے مقابلوں کی بات کرتے ہیں ۔۔ ویسے بھی قوم کا مزاج برا سننے کا نہیں رہا ۔۔۔ بس اچھا اچھا سنائیں ۔۔۔ آپ وزیر لگ جائیں گے ۔۔۔ اچھے اچھے مشورہ دیں ۔۔ آپ مشیر لگ جائیں گے ۔۔۔ اچھے اچھے کپڑے پہنیں ۔۔ آپ سفیر لگ جائیں گے ۔۔۔ اور اچھے اچھے پیسے لیں ۔۔۔ آپ منصف بن جائیں گے ۔۔۔۔ کیوں کہ ہم تو پیسے لے کر منصفی کرتے ہیں بھائی ۔۔۔ پیسے لے کر!۔۔
تمام شرکا سے گفتگو کرنے سے پہلے ۔۔ کچھ چھوٹی چھوٹی باتیں ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میری قوم کا حس مزاح ۔۔۔ لڑکیوں سے شروع ہوکر لڑکیوں پہ ختم کیوں ہوجاتا ہے؟ میں نے آنکھ کھولی اور سامنے نرس تھی، پھر میں اسکول گیا اور مجھے فلاں ٹیچر سے محبت ہوگئی ۔۔ پھر میں کالج گیا اور وہاں اس لڑکی سے میری آنکھیں چار ہوگئیں، پھر میں یونیورسٹی میں داخل ہوا اور وہاں ہر لڑکی خوبصورت تھی ۔۔۔
جب ہم ایک جنس کو مذاق کا نشانہ بنالیں گے ۔۔۔ تو پھر حقیقی زندگی میں بھی اس کو تضحیک کا نشانہ بناتے رہیں گے ۔۔۔ اور اسے کھیلنے کی ایک شہ سمجھ کر ۔۔۔ کھلواڑ کرتے رہیں گے ۔۔۔ جیسے کچھ بہت ہی اعلٰی پائے کے مقرر ۔۔۔ دیگر خواتین مقرر کو اپنی لونڈی سمجھ کر ان کیساتھ کھلواڑ کرتے ہیں ۔۔۔ میرے عزیز ہم وطنوں ۔۔ مزاح اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے ۔۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ اچھے مزاح نگاروں کو پڑھیں ۔۔ اچھے شعرا کو پڑھیں ۔۔ ورنہ اگر اسی روش پہ چلنا ہے ۔۔ تو کوئی بات نہیں ۔۔۔ بس اتنا کیجیئے گا کہ اگلی بار اپنے گھر سے کسی خاتون کو لایئے گا، اور ان کے سامنے یہ تقریر کیجیئے گا
پی اے ایف کیٹ کے مقررآصف نواز نے اچھا ہاؤس اوپن کیا ۔۔۔ اگر وہ مقابلہ ک شریک ہوتے تو دیگر شرکا کو اچھی ٹکر دیتے ۔۔۔ مقابلہ کے پہلے شریک تھے طلحہٰ جاوید ۔۔۔۔۔ آپ نے مزاحیہ تقریر کی
اچھے تھے آپ ۔۔۔ بلکہ مجھے کہنا چاہیئے کہ جب آپ آئے تو مجھے اتنا اچھا ہونے کی امید نہیں تھی ۔۔ آپ نے آغاز تو اچھے نکتہ سے کیا ،،، لیکن وہ ہی لڑکی لڑکی لڑکی ۔۔۔ سر آپ کا انداز اچھا ہے ۔۔۔ اسے تھوڑا اور طاقتور بنایئں ۔۔۔ آپ مزاح کے اچھے مقرر بن سکتے ہیں
فضا قمر ۔۔۔ اچھا رہا ۔۔ روانی بھی ٹھیک تھی اور بیچ میں کوئی جھول بھی نہیں آیا ۔۔ آپ مزید پڑھیں ۔۔ کیونکہ اب آپ کا مقابلہ اسکول یا کالج کے بچوں سے نہیں جامعات کے منجھے ہوئے مقرروں سے ہے ۔۔ تو بس اپنا مواد مزید مزید مظبوط کریں ۔۔ انداز اچھا ہے ۔۔ تھوڑا اور ٹہراؤ لایئں ۔۔
پھر تھے محمد امین ۔۔ بھائی کرانچی کیا ہوتا ہے؟ اور کر کر؟ خدارا رحم
فضا خان ۔ محنت کریں ۔۔ ایک مضمون پڑھنے میں اور تقریر کرنے میں فرق ہوتا ہے ۔۔ میں امید کرتا ہوں کل آپ نے کافی کچھ سیکھا ہوگا ۔۔ ضروری چیز یہ ہے کہ آپ آتیں رہیں ۔۔ یہ آپ کے اپنے حق میں بہتر ہے
اور یہ ہی بات صلاح الدین صاحب آپ کے لیئے بھی ۔۔۔
حسان شاہ ۔۔ تم ایک کچی عمارت ہو ۔۔ جو کہیں کہیں سے پکی ہو رہی ہے ۔۔ کہیں کہیں سے اب بھی کچی ہے ۔۔ جہاں سے کچی ہے ۔۔ وہاں سے بھی پکی کرو ۔۔کل انداز میں کافی بہتری نظر آئی ۔۔۔
مدرا آپ میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے ۔۔ اگر اسی طرح آگے بڑھتی رہیں تو آنے والے مقررین کے لیئے جیتنا بہت مشکل ہونے والا ہے ، بس اس بات کا دھیان رکھیں کہ منظر نگاری کرنے کے بعد موضوع بتایئں ۔۔ کیوں کہ آپ نے موضوع بہت دیر کے بعد بتایا ۔۔
ہادی نسیم ۔۔ اچھی خاصی شکل و صورت والے لڑکے ہو بھائی ، پھر محض مزاح کی خاطر اپنے آپ کو کیوں گرا کے پیش کررہے ہو؟ تم میں بہت اسپارک ہے ۔۔۔۔ تیکھا پن ۔۔۔۔ مواد پہ دھیان حضور مواد پہ ۔۔ تم نے مائیک کے ساتھ کیا چمتکار کیا؟ اتنا قریب آکر بولو گے تو کچھ سمجھ نہیں آئے گا ۔۔
محمد سلمان اچھا بولے ۔۔۔ آخری منٹ کی نظم نے تمھاری پوزیشن مستحکم کی ۔۔ ساقےیا نہیں بھائی ساقیا ۔۔۔ ہاں آواز میں اتار چڑھاؤ لاؤ ۔۔ ایک ہی ٹون میں پوری تقریر نہ کرو
سعد رحمٰن ۔۔ کچھ کچھ اچھا ۔۔ کچھ کچھ فحش ۔۔۔ اور تم بھی یہ جانتے ہو کہ کہاں کہاں اچھے تھے اور کہاں کہاں فحش ۔۔۔ غلطی تمھاری نہیں ۔۔ تم نے جو دیکھا وہ ہی سیکھا ۔۔۔ اور یہاں کراچی میں کوئی سکھانے والا نہیں ۔۔۔ اس میں ، میں اپنے آپ کو شامل گناہ سمجھتا ہوں ۔۔۔ چلو پھر ایک سودا کرتے ہیں ۔۔ میں جہاں بھی منصف جاتا ہوں وہاں آخر میں کچھ نہ کچھ بولتا ہوں ۔۔ اگلی تقریر ۔۔۔ مزاحیہ ہوگی ۔۔۔۔ تاکہ میں بتا سکوں کہ اچھا مزاح اور برا مزاح کیا ہوتا ہے ۔۔ امید کرتا ہوں تم ان باتوں مثبت لو گے ۔۔ تم میں اعتماد بہت اچھا آگیا ہے لڑکے یہ ایک اچھی چیز رہی
ثوبان بیگ ۔۔ تھیلی کو ٹھیک تلفظ سے پڑھنا ورنہ بوری میں پیک کردوں گا
:)
اچھی تقریر تھی ۔۔
حسان بٹ ۔۔۔ حوصلہ بھائی حوصلہ ۔۔۔۔۔ اتنے دھیمے؟ کیا گاڑی کو ریورس گیئر لگا دیا ہے؟
خیر مقابلہ ختم ہوا ۔۔ جیتنے والوں کو مبارک ۔۔۔۔۔ جو نہ جیت سکے ۔۔ کوئی بات نہیں ۔۔ اگلی بار میرے گھر پیسے پہنچادیجیئے گا ۔۔۔ حیران کیوں ہو رہے ہیں؟ آپ کو نہیں پتا؟ بھئی پتہ تو مجھے بھی نہیں تھا ۔۔ لیکن گزشتہ مقابلہ میں مجھے پتہ چلا کہ میں
پیسے لیکر پوزیشنز دیتا ہوں ۔۔۔۔ میں فکسر ہوں اور نتیجہ فکس کرتا ہوں ۔۔۔۔
یہ ہیں وہ چیزیں جو مجھ سے منسوب کر کے انٹرنیٹ کی زینت بنائی گئیں ۔۔۔ جن صاحب نے یہ سب کیا ۔۔۔ بس ان سے کیا کہنا ۔۔۔۔ وہ اپنی جگہ ٹھیک ہیں بالکل ٹھیک ۔۔۔ کیوں کہ جب کوئی خواتین مقرروں کو فحش میسجز بھیجے اور کل ڈبیٹ برادری صمم بکمم عمیون رہے ۔۔ تو اس کا مطلب تو یہ ہی کہ وہ ٹھیک ہیں ۔۔ فکسر تو ہم ہیں ۔۔۔ پیسے تو ہم لیتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہاں سب خاموش رہیں ۔۔۔ ششششششششششش ۔۔۔ سب چپ ۔۔۔ اس وقت تک ، جب تک آپ تمام بھائیوں کی بہنیں ان صاحب کی لالچی نظروں اور رال ٹپکاتی شہوت بھری زبان سے محفوظ ہیں ۔۔۔۔ بس سب چپ
ویسے ان صاحب سے گزارش ہے کہ ۔۔ وہ جو ہزار روپے ادھار لے کے گئے تھے ایک مہینے کے نام پہ ۔۔ وہ تو واپس کردیں ۔۔۔ یا پھر میری طرف سے ۔۔۔ نئے بچوں کے لیئے ہونے والے مقابلہ میں کسی مقرر کو دے دیجیئے گا انعام کے طور پہ ۔۔۔
Tuesday, 2 April 2013
آزاد میڈیا ۔۔ اصلاح سے زیادہ باعث بگاڑ - 2
اب سلسلے کو وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں پہلا بلاگ ختم کیا تھا ۔۔۔۔
اگلی تھیں نیو پورٹ کی ثمن علی ۔۔۔ آپ کا انداز اور بہتر ہوسکتا ہے ۔۔ ہاں کچھ چیزیں ہیں جن پہ آپ کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔۔ جیسے کہ تلفظ ۔۔ آپ نے کہا مثبت زبر سے ۔۔ صحیح ادائی مثبت ہے پیش سے ۔۔ آپ کو مواد پہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔۔ اور تھوڑی اعتماد کی کمی لگی ۔ امید ہے کہ آپ ان تمام چیزوں کو مثبت انداز میں استعمال کر کے بہتری لائیں گی ۔۔ پیش والا مثبت
پھر تھے جوہر ڈگری سے حسان بٹ ۔۔ آپ نے اصلاح کی بھی اقسام بتائیں ۔۔ پھر میڈیا کی کٹیگریز بھی ۔۔ آپ نے ٹی وی چینلز پہ دکھائی جانی والوں ان لاتعداد خبروں کا ذکر کیا کہ جن کی وجہ سے کرپشن، مس مینیجمنٹ، بیڈ گورننس جیسے عفریت عام لوگوں کی نظروں میں آئے ۔۔ پھر آپ نے لفظ ۔۔ زیادہ ۔۔ پہ سب سے زیادہ زور دیا اور بتایا کہ یہ ثابت نہیں کرنا کہ میڈیا اصلاح ہے یا بگاڑ ۔۔ یہ ثابت کرنا ہے کہ زیادہ اصلاح ہے یا زیادہ بگاڑ ،،، پر اعتماد تھے ،، اسے جاری رکھیں
پھر تھیں جامعہ کراچی سے جویریہ اختر ۔۔ آپ نے قرارداد کو اچھا بیان کیا، لفظ بہ لفظ مطلب بتائے ۔۔ وہ سطر اچھی تھی ۔۔ آج کے سیاستدان خبر کی زینت بننے کے لیئے زینت امان بن جاتے ہیں ۔۔ مواد بہتر تھا مگر انداز تھوڑا دھیما رہ گیا اس بار ۔۔ یعنی گاڑی دوسرے گیئر سے آگے بڑھ ہی نہیں سکی ۔۔
پھر تھے حسان شاہ ۔۔۔ پہلے سے بہتر رہے ۔۔ اس بار تلفظ کی غلطیاں کم رہیں ۔۔۔ اس کے لیئے شکریہ ۔۔۔ مواد میں اتنی جان نہیں تھی ۔۔ اور ایک اور بات ۔۔ کہ اگر کوئی دلیل آپ سے پہلے آنے والے مقرر کہہ جائے اور آپ کے مواد میں بھی وہ دلیل موجود ہو، تو بہتر ہے کہ آپ وہ دلیل نہ دیں ۔۔ میں بات کر رہا ہوں قائد اعظم کے سیکولر یا نان سیکولر ہونے والی دلیل کی ۔۔ کیوں کہ آپ سے پہلے آنے والے دو سے تین مقرر یہ دلیل دے چکے تھے ۔۔
پھر تھیں جامعہ اردو کی شگفتہ خان ۔۔۔ اب چونسٹھ کو سکسٹی فور اور اڑتالیس کو فارٹی ایٹ بولنے پہ تو نشانات منہاں ہوں گے ۔۔ باقی مواد اور انداز په تھوڑی اور پکڑ لائیں ۔۔
مرزا ثوبان بیگ تھے سوئیڈش انسٹی ٹیوٹ سے ۔۔۔ لاتعداد نکتہ اور گہرائی میں جا کر دلائل کو پیش کیا ۔۔ انداز ہمیشہ کی طرح جاندار ۔۔
پھر تھے ابو طلحہ ۔۔۔ بہت اچھا مواد، نائن الیون سے لیکر خروٹ آباد تک کے واقعہ پہ میڈیا کے کردار کے حوالے سے بتایا ۔۔ میمو گیٹ سے مہران بینک اور سونامی سے لیکر ہوائی حادثہ تک میڈیا رپورٹنگ کے حوالے سے دلائل دیئے ۔۔ انداز اچھا، تھوڑا تیز ۔۔ اگر روانی تھوڑی ہلکی کرلیں تو بات میں اور وزن پیدا ہوجائے ۔۔
طلحہ حسن وارثی ۔۔ بھائی اسلامی روایات دیتے وقت یہ دھیان میں رکھیں کہ سامنے سے آنے والا حسین کی صداقت کو کیسے رد کرے گا ۔۔ گیس سلنڈر والا نکتہ پہلے اٹھ چکا تھا ۔۔ آپ کچھ اور کر لیتے تو بہتر ہوتا۔ ۔ اس بار وہ انداز دیکھنے میں نہیں آیا ۔۔ لیکن اگلی بار امید ہے کہ بہتر ہوگا ۔۔
انم علی ۔۔ مواد کو مزید مظبوط کریں ۔۔ یہ اچھی بات رہی کہ آپ کو مباحثہ کے آداب معلوم تھے ۔۔ یعنی قرارداد کو بیان کیا ۔۔ اس لیئے امید کرتا ہوں کہ آگے آنے والے مقابلوں میں آپ اور اچھا کریں گی ۔۔ اعتماد لائیں ۔۔ مزید پریکٹس کریں ۔۔
آخر میں آئے سید اقبال حسین رضوی ۔۔ پاکستانی کھلاڑیوں والی دلیل معذرت کیساتھ آپ کے ہی خلاف چلی گئی ۔۔ اور جب مواد میں تکرار پیدا ہوجائے تو تکنیکی بنیادوں پہ مارکس منہاں ہوجاتے ہیں ۔۔
تو بھائی یہ تو تھے وہ ریمارکس جو میں نوٹ کرپایا ۔۔ جو جیتے ان سے میری کوئی رشتہ داری نہیں، جو ہارے ان سے کوئی دشمنی نہیں، لیکن کچھ لوگ ایسا ماحول بنانے کی کوشش ضرور کر ہے ہیں ۔۔۔۔ میری ان سے صرف اتنی درخواست ہے ۔۔۔ کہ ۔۔۔۔۔۔۔
تپڑ ہے تو پاس کر
ورنہ برداشت کر
(اس بد تہذیبی کے لیئے معذرت لیکن ، بد تہذیبوں کو ان کے ہی انداز میں جواب نہ دیا جائے تو انھیں سمجھ نہیں آتا)
ٓآزاد میڈیا ۔۔ اصلاح سے زیادہ باعث بگاڑ
آج
کی تازہ خبر تازہ خبر تازہ خبر ۔۔ ویسے محمد علی جناح میں ہونے والے مباحثہ کی خبر
اگر کسی اخبار میں لگتی تو سرخی کچھ یوں ہوتی ۔۔۔ دست شفقت سے بھرپور مباحثہ ۔۔
عابد علی امنگ کی شفقت بھری صدارت ، اقرار الحسن کی شفقت بھری خصوصی آمد اور راحیل
اختر اور فیصل کریم کی شفقت بھری منصفی میں منعقد کیا گیا ۔۔۔ برائے
مہربانی اس خبر پڑھنے والے دیکھ مگر پیار سے ۔۔ معاف کیجئے گا، دیکھ مگر شفقت سے
کے سنہری اصول پہ کاربند ہوتے ہوئے پڑھیں ۔۔۔۔
J
بھائی شہریار برا نہ ماننا ۔۔۔
خیر تو محمد علی جناح یونیورسٹی نے روایت کو
برقرار رکھتے ہوئے بین الجماعتی اردو مباحثہ کا انعقاد کیا ۔۔ اور حسب روایت میں
نے بھی رات ک اس پہر بلاگ لکھنے کا آغاز کیا ۔۔۔
ایوان میں قرارداد پیش کی گئی تھی ۔۔۔ آزاد
میڈیا ،، اصلاح سے زیادہ باعث بگاڑ ۔۔۔۔۔ کچھ نئے بہت سے پرانے مقررین نے اس
قرارداد کی حق اور مخالفت میں دلائل پیش کیئے ۔۔ کچھ کو دیکھ اور سن کے کہا جاسکتا
تھا کہ یہ پہلی پوزیشن پہ آسکتا ہے، وہ دوسری پوزیشن پہ آسکتا ہے، وہ تیسری پوزیشن
پہ آسکتا ہے، اور کچھ کے بارے میں لگا کہ یہ کسی پوزیشن پہ آئے نہ آئے ۔۔ ٹرک کے
نیچے ضرور آسکتا ہے ۔۔۔
خیر تو دوبارہ بات کرتے ہیں قرارداد کی ۔۔ اور
میں خاص طور پہ کافی پرجوش تھا ۔۔ کیوں کہ مجھے پتہ تھا کہ آج سارے نشتر ٹی وی کی
جانب ہوں گے۔۔ اور میڈیا یعنی ابلاغ کے باقی تمام حصوں کو گول کرجائیں گے ۔۔ کیوں
کہ ٹی وی دیکھنا آسان ہے ۔۔ اور ریسرچ کرنا مشکل ۔۔۔ ایسا ہی ہوا ۔
مجھے اس بات کا بھی اندازہ تھا کہ نہ صرف ۔۔۔
صرف ٹی وی ڈبے کا ڈبہ بجایا جائے گا، بلکہ بجائے جانے کی کوشش صرف پاکستان
تک محدود رہے گی ۔۔ بھائی قرارداد میں کہاں لکھا ہے کہ پاکستان کا آزاد
میڈیا ۔۔ اصلاح سے زیادہ باعث بگاڑ ۔۔۔۔
تاخیر کے لیئے معذرت ۔۔ کیوں کہ کچھ بریکنگ
نیوز نے لکھنے کا موقع نہ دیا ۔۔ پھر ہمارے جامعہ جامشورو کے دوستوں نے
ہمیں
اگلے ہی دن ایک ٹریننگ سیشن کے لیئے مدعو کیا ہوا تھا ۔۔ اس لیئے اب کچھ فرصت ملی
ہے ۔۔
ابھی
بھی میں پورا نیہں لکھ رہا، یہ اس سلسلے کا پہلا بلاگ ہے ۔۔۔ اور دوسرا یعنی آخری
بلاگ آج رات ۔۔ اگر کوئی بریکنگ نہ آئی تو ۔۔۔
شروع
کرنے سے پہلے ۔۔۔ آپ تمام لوگوں کی نظر ایک پڑھا لکھا شعر
شکوہ
ظلمت شب تو کہیں بہتر تھا
اپنے
حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے
اور
اب ایک دوسرا ۔۔ تھوڑا کم پڑھا لکھا ۔۔ شعر کہیں یا جو بھی
محنت
کر
حسد
نہ کر
اب
بھائی اپنے اپنے حساب سے سمجھ لیں ۔۔۔ سمجھ تو گئے ہوں گے
سب
سے پہلے تشریف لائے بحریہ کالج کارساز سے محمد سلمان ۔۔ آپ نے قرارداد کو ٹھیک
طریقہ سے کھولا،جس کے بعد آپ نے آزادی پہ بھرپور توجہ سے گفتگو کی اور بتایا کہ
آزادی کا مطلب کیا ہوتا ہے، آپ کے مواد کا کچھ حصہ عامر لیاقت حسین کی کتاب لاؤڈ
سپیکر سے لیا گیا ۔۔۔ جو اس بات کو سامنے لاتا ہے کہ آپ مختلف چیزیں پڑھتے ہیں
۔۔۔ آپ کا ایک اور نکتہ اچھا تھا کہ رات میں ٹارگٹ کلنگ کی خبر اور صبح مارننگ شو
تضاد ہے ۔۔آپ نے رد دلائل نہیں دیئے ۔۔ وہاں آپ تھوڑے چوک گئے ۔۔
اس
کے بعد منصور علی سموں ۔۔ آپ نے مجموعی طور پہ کافی اچھا کیا ۔۔۔۔قرارداد بھی
کھولی، اور رد دلائل بھی دیئے
اس
کے علاوہ وقت پہ مواد کا اختتام کیا ۔۔ آپ پر اعتماد بھی تھے اور روانی زباں بھی
آپ کا خاصہ رہی، اپنی محنت جاری رکھیں، کیوں کہ آپ بس ایک آدھے نمبر سے رہ گئے
پھر
تھی پی این ای سی کی ٹیم ۔۔۔ میرے دونوں فوجی دوست طالب اور بشیر ۔۔۔ آپ میں سے
ہی کوئی اول یا دوم آسکتا تھا ۔۔ لیکن جیسے میں نے کہا کہ مسجد میں جانے کے آداب
کچھ ۔۔ اور مہ کدے میں جانے کے کچھ اور ہوتے یہں ۔۔ آپ دونوں کا مواد
زبردست تھا ۔۔ لیکن میں کیا کروں جب آپ دونوں مباحثہ کا آغاز ڈکلیمیشن کے انداز
سے کریں
طالب
آپ نے ہمارے میڈیا کی بات کی ۔ قرارداد میں ہمارا میڈٰا نہیں تھا، آزاد میڈیا
تھا، اس کے علاوہ مکار نشریات، صحافی کا قلم بک جانا، ٹی وی چینلز کی راجیش کھنہ،
سنجے دت کو زیادہ وقت دینا اور ایم ایم عالم کو وقت نہ دینے کا ذکر کیا ۔۔ اور یہ
بھی کہ اس میڈیا کیخلاف بھی ایک آپریشن راہ راست ہونا چاہیئے
بشیر
الیاس آپ نے اس بات پہ زور دیا میڈیا نے ایسے نکتہ اٹھائے جو انصاف طلب تھے یعنی
شاہ زیب کیس اور جس پہ اعلٰی عدلیہ نے از خود نوٹس لیئے ۔۔۔ مجموعی طور پہ دونوں
کا اعتماد باڈی لینگویج روانی تمام چیزیں بہترین تھیں ۔۔ بس انداز تکلم کا آئیندہ
خیال رکھیں
پھر
تھیں عبیرہ عارف ۔۔ وہ ہی مسئلہ کہ آغآٓز مباحثہ والا نہیں تھا ۔۔۔ کیوں کہ جب
آپ بحث کرنے آتے ہیں تو کوئی بھی لگی لپٹی گول گول باتیں سننے کے لیئے نہیں
بیٹھا ۔۔ جب محبت فریب بن جائے ۔۔ تو اس میں میڈیا کہاں سے آیا ۔۔ اس کا دھیان
رکھیں ۔۔۔ آپ نے مواد اچھا لکھا ، پیمرا کا ذکر کیا، غلط بریکنگ نیوز، ارشد پپو
۔۔ ذمہ داری کس پہ عائد ہوتی ہے اس سوال کو بھی ایوان کے سامنے رکھا ۔۔ آپ کے
انداز میں بہتری آرہی ہے ۔۔ اپنے رکنے کا انداز جسے انگریزی میں پازز کہتے ہیں،
اس کو دورانیہ اور کم کریں
پھر
تھے مرزا عطا
یوٹیوب
زندہ باد ۔۔ اس سے آگے کیا کہوں ۔۔ بھائی عباسی ٹاؤن نیہں ہے ۔۔۔
پھر
تھیں جامعہ کراچی سے مدرا ہمدانی ۔۔
آپ
کس جانب سے بول رہی تھیں؟ موافقت یا مخالفت ؟ کیوں کہ آپ نے کہا کہ یہاں قائد
ایوان نے آکر سچ بولنے والی صحافت کی تو بات ہی نہیں کی ۔۔۔ مگر ہاں، اپنی جذبات
کی رو میں بہک کر
ایمان
بیچنے والی صحافت کی بات کر گئے
اپنی
جذبات نہیں، اپنے جذبات ۔۔ اور جذبات کی رو میں بہا جاتا ہے بہکا نہیں جاتا
میرے
خیال سے آپ قائد حزب اختلاف کو مخاطب کرنے کے بجائے اپنے ہی قائد ایوان کو تنقید
کا نشانہ بنا گیئں ۔
یہاں
تکنیکی طور پہ آپ کے مواد میں تکرار پیدا ہوگئی
یہ
کہاں لکھا ہے کالی صحافت میں قوم کی مت ماری گئ؟ زرد صحافت میں زرد کاری ۔۔ اس کا
کیا مطلب ہے؟
یہ
تو دلیل مکمل نہیں ہوئی
جہاں
تک بات ہے مثبت پہلوؤں کی تو آپ پہلے سے زیادہ روانی میں بول رہی ہیں جو اچھی بات
ہے ۔۔ آپ نے میڈیا کی اقسام بتائیں
ایمان
بیچنے والی صحافت، قائد اعظم سیکولر تھے یا نیہں پہ ہونے والی بحث، مجموعی طور پہ
پہلے سے بہتر
پھر
تھیں رخشندہ قادری ۔۔ دیکھئے مباحثہ میں لفاظی کی ضرورت ہی نہیں، جب دلیل اور رد
دلیل سے کام بن جائے تو فضول میں لفاضی کرنا ۔۔۔ بنتا نہیں ۔۔آپ تین بار رکیں ۔۔
کچھ تلفظ کی غلطی بھی تھی ۔۔۔ میں نے کہا آپ تین بار رکیں ۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں
کہ آپ مقابلوں میں آنا روک دیں ۔۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان
جنگ میں ۔۔ تو آپ اپنے اس تجربہ کو میدام عمل میں لائیں، آئیندہ بہتر کرنے کی
کوشش کریں ۔۔
اچھا
آپ نے اصلاح کو زیر کے بجائے زبر لگا کہ ادا کیا، جس سے اصلاح ۔۔ اسلحہ معلوم ہوا
۔۔ کوئی بات نہیں ۔۔ جب ہم ٹی وی پہ بیٹھ کے تلفظ کی اکا دکا غلطیاں کر سکتے ہیں،
تو ہر کوئی کرسکتا ہے اس میں کوئی بات نہیں، ہاں لیکن پھر اس بات کا خیال رکھتے
ہیں، کہ اگر اسی خبر میں لفظ دوبارہ آئے تو اس کی ادائی ٹھیک طریقہ سے کریں ۔۔ اس
سے یہ ہوتا ہے کہ از خود تصیح ہوجاتی ہے، جس سے ناظر کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس
اینکر کو یہ لفظ آتا تھا، زبان کی پھسلن سے ایک بار غلط بولنے کے بعد دوسری بار
ٹھیک کرلیا ۔۔ اور ناظر کا ہم پہ اعتماد اور بڑھ جاتا ہے ۔۔ اسی چیز کو روسٹرم پہ
آپ استعمال کریں، تو منصف کا اعتماد آپ پہ بڑھے گا کہ ٹھیک ہے ایک بار غلط ادائی
ہوگئی ۔۔ واپس آکر اس نے ٹھیک بول دیا ۔۔ ہاں اگر دوسری تیسرے بار بھی غلط بولا ،
اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ گڑبڑ ہے ۔۔۔
چلیں
اسی بہانے پڑھنے والوں کو بتاتا چلوں کہ ادائیگی لفظ غلطالعام ہے ۔۔ ٹھیک لفظ
ادائی ہے ۔۔۔
پھر
تھی جامعہ بحریہ کی ٹیم عمارہ اور شہیرہ ۔۔ عمارہ اگلی بار مزید محنت ۔۔۔۔۔
شہیرہ
آپ کا اعتماد بہت بہت اچھا ہے ۔۔ مگر وہ ہی بات، کہ ہر جگہ بات کرنے کا سلیقہ و
طریقہ مختلف ہوتا ہے ۔۔ آپ نے جو پارلیمانی مباحثہ کا مجھر حوالہ دیا، اس کا ذکر
یہاں نہیں کروں گا ۔۔۔ کیوں کہ وہ آپس کی بات ہے ۔۔۔ سیٹھی صاحب والی نہیں مگر
ہماری ذاتی گفتگو اس لیئے یہاں اس کا تذکرہ مناسب نہیں سمجھتا ۔۔ آپ کا مواد اچھا
تھا اور میں امید کرتا ہوں کہ آئیندہ آپ اس پہ سوچیں گی ضرور جو مباحثہ اور
پارلیمانہ مباحثہ کے حوالے سے میں نے آپ کو بتانے کی کوشش کی
پھر
تھیں جامعہ کراچی سے شان زہرہ ۔۔۔ بھئی دوسرے کی اصلاح تو
کردی، مگر خود کی چڑیا
کو غلط بٹھا دیا
:)
مجموعی
طور پہ اچھا تھا ۔۔ خاص کہ وہ نکتہ کہ میڈیا متاثر تو کرسکتا ہے مگر تاثیر پیدا
نہیں کرسکتا اور جو تاثیر پیدا نہ کرسکے وہ کتحرک نہیں ہوتا اور جو متحرک نہ ہو وہ
تبدیلی نیہں لاسکتا، آزادی پہ بھی آپ نے گفتگو کی ۔۔ اچھا رہا
پھر
تھیں زونا نقوی ۔۔۔ پرچہ سے دیکھ کہ نہ پڑھیں، یہ بیساکھی ہے اسے پھینک دیں
تحریر
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
Monday, 4 March 2013
فیصل کریم مردہ باد، فیصل کریم نامنظور
فیصل کریم مردہ باد، فیصل کریم نامنظور، ظلم کے یہ ظابطہ ہم نہیں مناتے، فیصل کریم نئے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے،اس لئے مردہ باد مردہ باد،،،، میں ان اقسام کے نعروں سے ہی ڈرا ہوں نہ ڈرتا ہوں، نہ ہی کوئی فرق
پڑتا ہے ۔۔۔۔
کیوں کہ، جو میں ڈائس پہ تقریر کرتے ہوئے بولتا ہوں، وہ ڈائس سے نیچے آکر نہ بولوں، تو قول و فعل میں تضاد ہو، اور جس کے قول و فعل میں تضاد ہو ۔۔ اسے کیا کہتے ہیں، یہ آپ سب جانتے ہیں ۔۔۔ کچھ دنوں سے مختلف مقابلوں میں جانا ہو رہا ہے، بحیثیت منصف، اور یقین مانیں، کہ دل بہت کڑھ رہا ہے ۔۔۔ اس وجہ سے نیہں کہ لوگ ہار جاتے ہیں، یا اچھی تقاریر سننے کو نہیں ملتیں، یا کچھ اور، بلکہ اس لیئے، کہ تقاریر ہارنے کے بعد جو رونا دھونا، الزام تراشی اور میں نہ مانوں والی رٹ لگی ہوئی ہے ۔۔ غلط ہے ۔۔۔۔ وہ ہی پرانی تقاریر، وہ ہی پرانے پتہ جات ۔۔۔۔ اور اگر اصلاح کے لیئے کچھ کہیں، تو آگے سے سننے کو ملتی ہے ۔۔۔
مجھےسمجھ نہیں آتا ۔۔ کہ یہ مباحثہ، صدر بازار میں لگی ہوئی لوٹ سیل کیوں بنتی جارہی ہے؟ کوئی بھی کچھ بھی بول کے چلا جائے، اور پھر یہ سمجھے واہ واہ کیا بولا ہے ۔۔۔۔ کبھی یو ٹیوب اسپانسرڈ تقاریر، کبھی پرانے پتہ جات، نہ اخبارات کا کوئی حوالہ، نہ ہی کسی اچھے ادیب کا کوئی تراشہ، نہ ہی نئے شعرا کا کوئی ٹکڑا ۔۔۔ تو بھائی باتیں نئے انقلاب کی، اور تقاریر وہ ہی پرانی ۔۔۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
بات منظر نگاری یعنی ڈکلیمیشن کی ۔۔۔۔ بھائی اگر آپ نے ماحول بنا کر سامع کو سحر مین جکڑنا ہے تو ممتاز مفتی کو پڑھیں ۔۔۔ اگر براہ راست کردار کی منظر نگار کرنی ہے تو منٹو سے بہتر کوئی نہیں، اگر منظر نگاری میں رنج و الم، عشق و محبت، حب الوطنی و غداری کے مزید ثقیل رنگ بھرنے ہیں تو خلیل جبران حاضر ہیں، حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے تو اخبارات کا رخ کریں اور آرٹیکلز پڑھیں، تواریخ کے حوالہ جات کے لیئے نذیر لغاری کا آرٹیکل تو ہے ہی، حکومتی ارکان کو نشانہ بنانا ہے تو جیو حسن نثار ۔۔۔۔ پھر آتے ہیں شعرا پہ، اقبال کی جان چھوڑ دیں اور ان چند منظومات کی بھی ۔ تم نے ہر عہد میں ہر نسل سے غداری کی، آؤ کھیلیں دشمن دشمن، یہ بات عیاں ہے دنیا پہ
ہم پھول بھی ہیں تلوار بھی ہیں، سولہ کروڑ بھکاری ہیں ۔۔۔ بس کریں ۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔۔
اب بات یہ بھی ہے کہ یار، مجھے کیا فکر پڑی ہے، میں کیوں اپنا خون جلا رہا ہوں ۔۔۔۔ سر جی مجھے آپ کی نہیں، ان نئے آنے والے اسکول اور کالجز کے بچوں کی فکر ہے، جنھیں کل کو جامعات میں آکر باگ ڈور سنبھالنی ہے ۔۔۔ ایک مقرر صرف گفتار کا غاضی نہیں، کردار کا بھی غاضی ہوتا ہے، اور جب تک اس میں نئی چیزیں پڑھنے کا شوق پیدا نہیں ہوگا، اس کی کرادر کی تعمیر کیسے ممکن ہوگی؟
ہم پھول بھی ہیں تلوار بھی ہیں، سولہ کروڑ بھکاری ہیں ۔۔۔ بس کریں ۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔۔
اب بات یہ بھی ہے کہ یار، مجھے کیا فکر پڑی ہے، میں کیوں اپنا خون جلا رہا ہوں ۔۔۔۔ سر جی مجھے آپ کی نہیں، ان نئے آنے والے اسکول اور کالجز کے بچوں کی فکر ہے، جنھیں کل کو جامعات میں آکر باگ ڈور سنبھالنی ہے ۔۔۔ ایک مقرر صرف گفتار کا غاضی نہیں، کردار کا بھی غاضی ہوتا ہے، اور جب تک اس میں نئی چیزیں پڑھنے کا شوق پیدا نہیں ہوگا، اس کی کرادر کی تعمیر کیسے ممکن ہوگی؟
تو اب جس جس کو نوارد کہنا ہے، نوسکھیا کہنا ہے، مردہ باد کے نعرے لگانے ہیں، ان کے لئے ۔۔۔
نوٹس ملیا ۔۔
ککھ نہ ہلیا ۔۔۔
کی سوہنڑیا دا گلا کراں
میں لکھ واری بسم اللہ کراں
Saturday, 2 March 2013
گوورنمنٹ کالج برائے خواتین کا مقابلہ منظر نگاری
تو اچھا
مقرر، اچھا انسان ہوتا ہے ۔۔۔ پتہ نہیں میڈم شبنم نے یہ بات کیوں کی ۔۔ شاید ۔۔۔
انھوں نے جامعہ سے نہیں پڑھا ۔۔ یا جو مقرر اب وہاں ہیں، ان سے ان کا پالا نہیں
پڑا، خیر میرا تو پیغام محبت ۔۔ جہاں تک پہنچے ؛)
سرکاری کالج
برائے خواتین ناظم آباد میں مقابلہ جذباتی تقریر ہوا ۔۔۔ ارے یہ کیا؟؟ جذباتی تقریر؟
جی بھائی،
اب تک جہاں جہاں بھی ڈکلیمیشن کا مطلب ڈھونڈھا، تو یہ ہی ملا، اور ٹھیک بھی ہے،
جذبات سے بھرپور تقاریر سننے کو ملیں، اور بہت کم دیکھنے کو ملیں ۔۔ سمجھے ؟؟ نہیں؟؟
جب الفاظ آپ
کے اپنے نہ ہوں، اور آپ لاکھ چیخ چلا لیں، تو بھی الفاظ آپ کے چہرے کا ساتھ نہیں دیں
گے، آپ کے غصیلے الفاظ آپ کے ماتھے پہ بل نہیں ڈالیں گے، آپ کا مزاح آپ کے چہرے پہ
نقلی مسکراہٹ لائے گا، حقیقی نہیں ۔۔۔ آپ کا دکھ نہ ہی آپ کے چہرے کو مغموم دکھائے
گا، نہ ہی سامعین و حاضرین کی آنکھیں نم ہوسکیں گی ۔۔۔۔
تقریبآ ہر
مقرر نے یہ ہی کیا، کہ جیسے بہاری زبان میں کہتے ہیں، بہت چیخم چلا کیا ۔۔۔ لیکن
جذبات سے عاری ۔۔۔۔ اور وہ اسی لیئے کہ بہت سے لوگ خود نہیں لکھتے ۔۔۔ غلط ہے ۔۔۔
پھر بڑے بڑے لوگ یہ کہتے ہیں کہ بھئی میں نئے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہوں ۔۔
ہاں بھئی یہ تو میں غلط کرتا ہوں، کیوں کہ جس قوم کے لوگ، امتحان میں بھی دوسرے کا
پرچہ دیکھ کے لکھیں، وہ تقریر خود سے ۔۔۔ کیسے J
سب سے پہلے
علیزہ انم، آپ نے مزاحیہ مواد پیش کرنے کی کوشش کی، جس میں آپ نے پاکستانی خواتین
کرکٹ ٹیم کی شکست، ان کا بیوٹی پارلر سے تیار ہونا، اور میرا کی نقل شامل تھا۔ میرا
یا کسی اور کی نقل کے بارے میں تو جو عابد
بھائی کہہ گئے اس کے بعد مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، ہاں جہاں تک کرکٹ
والے نکتہ کی بات ہے، آپ نے کہا کہ ٹیم چھٹی پوزیشن پہ آئی۔ ٹیم چھٹی نہیں ساتویں
پوزیشن پہ آئی تھی، کیوں کہ بھارت کے ساتھ ٹیم چھٹی پوزیشن کا میچ ہار گئی تھی۔
پھر تھی آغا
خان کی ٹیم، ماہم منور آپ اچھا بولیں ۔۔۔ اس کو جاری رکھیں، ہاں بس ایک آدھی جگہ
کچھ اوپر نیچے ہوا تسلسل۔ اس کو آئیندہ سنبھال لیئجیئے گا۔
آپ کے ساتھ
تھے محمد سمیع۔ وہ ہی بات۔ جب تک لفظ اپنے نہیں ہوں گے، تو انداز بھی نکھر کے
سامنے نہیں آسکے گا۔
پھر تھے بحریہ
کارساز سے شرجیل، موضوع تھا یہ جمہوریت ہے۔ آپ کے مواد اور انداز پہ کچھ بھی کہنے
سے قبل، میں اس موضوع کے حوالے سے کچھ کہتا چلوں، کہ اگر بات جمہوریت کی کرنی تھی،
تو اس نظام کی کرنی تھی، پاکستان کی نہیں۔ جمہوریت اور اس کے ثمرات و اثرات صرف
پاکستان تک تو محدود نہیں ہیں ناں؟ تو پھر موضوع میں زیر بحث صرف پاکستان کو لانے
سے مواد تھوڑا ادھورا رہ گیا۔ جہاں تک بات ہے آپ کے انداز کا تو آپ تسلسل تو اچھا
ہے، مگر ڈیکلیمیٹری اسٹائل نہیں تھا۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس بات کو سمجھیں گے۔
پھر تھیں
لاریب، مزاحیہ موضوع سب کہہ دو ۔۔ آپ کا مواد کم اور اشعار زیادہ تھے، پھر آپ نے ٹیچر
کے میک اپ کے حوالے سے بھی ایک نکتہ اٹھایا۔ میں بحیثیت ایک شاگرد یہ سمجھتا ہوں
کہ استاد کا احترام، چاہے وہ جیسا بھی ہو، لازم ہے۔ امید ہے کہ آپ اس بات کو مد
نظر رکھیں گی، کیوں کہ جس نے آپ کو ڈائس پہ کھڑا ہونا سکھایا ہوگا، وہ بھی تو
استاد ہی ہے!
ام ایمن ۔۔۔
کیوں کہ آپ نے خواہش ظاہر کی کہ میں سب کے سامنے آپ کے حوالے سے رائے نہیں دوں تو ۔۔
جو حکم
ثوبان بیگ ۔۔۔
خوشی ہوتی ہے، جب میرے شہر کے نئے مقرر، اچھا بولتے ہیں ۔۔۔۔ مواد میں دھڑا دھڑ ایک
کے بعد واقعات تھے۔۔۔ جو سامعین کو اپنی طرف کھینچ رکھتی ہے۔ بس اگر اگلی بار کسی
واقعہ سے مواد کا آغاز کیا جائے تو کیا ہی بات ہوجائے۔۔۔۔
اگلی تھیں
ماہم فاطمہ، بیٹا آپ کا مکمل طور پہ مباحثہ والا انداز تھا۔ یاد رکھیئے گا جیسا دیس
ویسا بھیس، یعنی اگر یہ مباحثہ کا مقابلہ ہوتا تو آپ کو مواد و انداز بہتر تھا،
مگر یہ ڈکلیمیشن تھی۔
مہوش پٹیل،
میرا خیال ہے آپ کو خود اندازہ ہوگا کہ آپ کی کہاں پہ غلطیاں ہوئی ہوں گی، مواد تو
اچھا تھا، مگر آپ بہت بہت دھیمی رہیں۔ دھیما رہنے میں کوئی برائی نہیں۔۔ بلکہ میں
خواتین مقرر میں ہمیشہ اس بات کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ جو خدا نے نسوانی آواز
میں پتھر دل کو موم کردینے کی صلاحیت بخشی ہے، وہ مردانہ آواز میں نہیں۔ اور لڑکیاں
اگر ڈائس پہ آ کر مردانہ وار چیخنا چلانا شروع کردیں تو عجیب سا لگتا ہے۔ ہاں لیگن
دھیما بولنے میں اور بے اثر بولنے میں بڑا فرق ہے۔
آپ کیساتھ
تھیں تسا احمد ۔۔۔ ویسے میں کسی کو یہ کہتا نہیں، لیکن اگلی بار مزاحیہ لکھنی ہو
تو میں آپ کو لکھ کے دے دوں گا ۔۔۔۔ اسے آپ طنز مت سمجھیئے گا، کیوں تمام آنے والے
مقابل میرے بہن بھائی جیسے ہیں، اور ایک بہن کے منہ سے ایسا مزاح میں نہیں سن سکتا۔
امید ہے آپ اس چیز کو مثبت طریقہ سے لے کر آگے بڑھیں گی۔۔۔
اگلی تھے
حسان شاہ، مجھے تمھارا لکڑ ہظم پتھر ہظم والا پتہ، یاد ہوچکا ہے، اور برائے مہربانی
اپنی گروتھ کو ایک ہی پتہ بار بار کہہ کہ مت روکو۔ تلفظ بہتر کرو۔۔۔
اور یہ ہی
شکایت مجھے شہزادی کنول سے بھی ہے، بلیک اوباما کے بلیک شیپ کے بلیک واٹر ۔۔۔۔ بس!
اقبال ۔۔۔
آج بہتر بولے، لیکن استاد کا احترام جناب، برائے مہربانی ۔۔۔
رابعہ
عثمان، شروعات تھوڑی ٹھنڈی رہی۔۔۔ پھر بیچ میں بہتری ہوئی، اور مجھے وہ والی تقریر
یاد ہے جو فارمیسی میں آپ نے کی تھی، اس میں اور اس والی میں کافی فرق تھا۔ ٹیمپو
تھوڑا نیچے تھا۔ اس کو اوپر کریں، یعنی جیسے جیسے تقریر آگے بڑھے، ویسے ویسے ٹیمپو
کو بھی آگے بڑھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی ہیں جویریہ
اختر، ٹون اور ٹیمپو اچھی اٹھائی، پھر اور اٹھائی، لیکن اس سے زیادہ جب بڑھانی تھی
تو نہیں بڑھائی، اور اسی میں ختم کردی ۔۔۔۔ اس کا دھیان رکھیں ۔۔ اور ان واقعات کی
منظر نگاری کریں، جو آپ کے سامع کو جا کے ۔۔۔ ٹھک کر کے لگے ۔۔ کیسے؟ ٹھک کر کے!
سمجھیں؟
نور الصبا ۔۔۔
سنجیدہ موضوع میں آپ کا تسلسل بہت اچھا رہے گا ۔۔۔ تھوڑا تیزی میں بولیں آپ ۔۔۔
انگریزی میں کہتے ہیں اسٹریس اینڈ پاز ۔۔۔ یعنی جملوں میں جہاں ضروری ہے، وہاں رکیں
۔۔ اور لفظوں پہ اسٹریس
دے کہ ان میں
جان ڈالیں ۔۔۔۔
بہت معذرت
کے تھوڑا التوا کا شکار ہوا یہ بلاگ ۔۔۔۔ آخر میں اتنی سی
بات کہ، بھائی میں
منصف نہیں تھا ۔۔۔۔ جو افراد یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں نے کسی کو جان بوجھ کے انعام
دے دیا، اور کسی کو نہیں دیا ۔۔۔ تومیرے بھائی ۔۔۔ سوچتے رہیں ۔۔۔۔۔ ویسے اتنی سوچ
آپ مواد لکھنے اور
انداز بیاں
پہ لگالیں، تو کیا ہی بات ہے ۔۔۔۔
پلان کے
مطابق مجھے ایوان میں پہنچ کہ تھوڑی سی تقریر کرنا تھی، لیکن میرے وہاں پہنچنے پہ
قابل احترام میڈم شبنم نے مجھے بھی منصفی کی ایک فائل تھما دی اور کہا بھئی میں دیکھنا
چاہتی ہوں کہ تم ججمنٹ کیسی کرتے ہو ۔۔ اور میں شرمندہ شرمندہ بہت ہی سینیئر ولی
رضوی، انیس زیدی، اور برادرم اقرار الحسن کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔ یعنی میرے دیئے
ہوئے کوئی بھی نمبر مقابلہ کے نتیجے پر اثر انداز نہیں ہوئے ۔۔۔ تو بھائی جو لوگ یہ
سمجھ رہے ہیں کہ میں نے کوئی دھاندھلی وغیرہ کی، یا نئے مقرر حضرات کیساتھ نا
انصافی کی، وہ یہ رونا چھوڑیں ۔۔۔۔۔ بھوندو کہیں کے!
اگر کوئی
مقرر ایسا رہ گیا ہو جس کا تذکرہ میں نہیں کیا ہو، تو پیشگی معذرت، اگر آپ چاہیں
تو میں آپ کے حوالے سے بھی رائے دے سکتا ہوں ۔۔۔
Monday, 18 February 2013
حکمران نہیں ۔۔ نوجوان غدار ہیں
اب
نوارد کہو ۔۔ نوسکھیا ۔۔ یا پھر کچھ بھی ۔۔۔ بھیا منصف منصف ہوتا ہے ۔۔۔ سمجھے منا
۔۔۔ خیر زمانہ طالبعلمی میں۔۔ جو بڑی دیر میں ختم ہوا، اور کچھ ساتھیوں کا ابھی تک
چل رہا ہے ۔۔۔ تو میں بات کر رہا تھا زمانہ طالبعلمی میں، جب جب مباحثہ یا تقریری
مقابلہ میں ہار کا سامنہ کرنا پڑا، تب تب سب سے زیادہ غصہ منصف پہ ہی آتا تھا ۔۔۔۔
لیکن پھر کسی نے مجھے یہ شعر سنایا
ہنسی
آتی ہے مجھے فطرت انسان پر
غلطی
خود کرے اور الزام دھرے شیطان پر
مجھے
یاد ہے، آرٹس کونسل کا وہ مباحثہ، کہ جس کی قرارداد تھی ۔۔۔ ہم آزاد ہیں ۔۔۔ اف
اوف ۔ فیصل کریم بھائی نے زبردست خون آشام تقریر تیار کی، اور اوپر سے دو دن پہلے
یوٹیوب پہ ایک ہندو لڑکی کی جانب سے پاکستان کی شان میں ایک گستاخانہ تقریر دیکھ لی،
بس جاگ گئی حب الوطنی، اور ایسی جاگی کہ پوری نظم جو لڑکی نے پڑھی تھی پاکستان کیخلاف،
اس کو کردیا بھارت کیخلاف ۔۔۔ حسب عادت رات دس بجے راحیل کو فون کیا ۔۔۔ رکیں رکیں،
اب دیکھیں کتنی خوبصورت عادت ہے، کہ جاتے لڑکپن اور آتی جوانی کے اس زمانے میں ایک
لڑکا، ایک لڑکے کو فون کررہا ہے، اور تقریر سنا رہا ہے ۔۔ اس عمر میں تو پتہ نہیں
لڑکے ۔۔۔ کیا کیا کرجاتے ہیں، اور مسئلہ یہ ہے کہ مجھتے پتہ ہے کہ کیا کیا کرجاتے
ہیں ۔۔ خیر جانے دیں، میرا دوبارہ پٹنے کا کوئی پلان نہیں ۔۔ ہاں تو خیر رات دس
بجے راحیل کو فون کیا، اور جوش میں تقریر سنائی ۔۔۔ آگے سے واہ واہ ۔۔ اعلٰی اعلٰی
۔۔۔ لوٹ لیا کی صدائوں نے تو بس ۔۔۔۔۔۔ ماحول کو ایسا گرما دیا ۔۔ کہ فیصل صاحب
ساتویں آسمان پہ ۔۔۔ اور اگلے دن پہنچ گئے آرٹس کونسل ۔۔۔ باری آئی ۔۔۔ اور کوئی
دھواں دار تقریر کی ۔۔ اور نتیجہ کیلیئے عابد بھائی اسٹیج پہ تشریف لائے ۔۔ اسٹیج
سے یاد آیا ۔۔ عابد بھائی ۔۔ یار آپ منگنی میں نہیں آئے ۔۔ یقین مانیں وہاں بھی
اسٹیج پہ ہی تھا میں ۔۔۔ ہاں بس ڈائس کی کمی تھی، تو خیر ہم بات کرہے تھے نتیجہ کی
۔۔۔ پانچواں انعام راحیل اختر، چوتھا قاسم سلیم، تیسرا رمشا کنول، دوسرا یاد نہیں،
اور پہلا انعام ۔۔۔۔۔۔ اور دل کی دھڑکن تیز ۔۔۔۔ جاتا ہے ۔۔۔۔ ہارٹ اٹیک ہونے کو ہے ۔۔۔۔۔ عمبرین تبسم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل کے
ارماں ۔۔۔ آنسووں میں ۔۔۔۔۔
اب
تقریر بھی ٹھیک تھی، شعر بھی بھر بھر کے ڈالے تھے کلو کے حساب سے، اور آخری نظم
نے تو ایوان ہلا دیا تھا بھئی ۔۔ پھر کیا مسئلہ ہوا ۔۔۔ فیصل صاحب روٹھ کے باہر ۔۔۔۔۔۔
اور باہر نکلتے ہی ملے ۔۔۔ عابد بھائی ۔۔۔ یار یہ کیا ہے؟ عابد بھائی مجھے کیوں نہیں
ملا؟ آخر کیا غلطی تھی میری؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اتنی اچھی تقریر تو تھی؟؟؟؟
اور آگے سے جواب ملا، بیٹے تقریر بہت عمدہ تھی، بس مسئلہ یہ تھا کہ یہ تقریری
مقابلہ نہیں، مباحثہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور فیصل صاحب کلین بولڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے اگر
میں اس دن کلین بولڈ نہ ہوتا ۔۔۔ تو آگے آنے میچوں میں مین آف دی میچ کبھی نہ
ہوتا ۔۔۔۔ واہ واہ ۔۔۔ کیسا دیا ۔۔۔۔۔۔
اب
جیسا بھی دیا ہو، میں اب یہ چاہتا ہوں کہ آنے والے اور والی مقرر و مقررہ حضرات،
کلین بولڈ ہونے سے پہلے ہی اس کھیل کے اسرار و رموز سے واقف ہوجائیں ۔۔ اور اس کے
لیئے میں نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے، کہ جہاں بھی منصف جاوں، وہاں سے واپسی پہ بچوں
کو چن چن کے بتاوں کہ بیٹا ۔۔آپ نے یہ کیا، آپ نے وہ کیا ۔۔۔۔ اور بات سب تک
پہنچ جائے، اس لیئے بلاگ کا سہارا لے رہا ہوں ۔۔امید ہے آپ لوگ اسے نہ صرف سراہیں
گے بلکہ مثبت طریقہ سے استعمال میں لاکر اپنی غلطیوں کو غلطیاں نہ رہنے دیں ۔۔۔۔۔
یہ
اس قسم کا پہلا بلاگ لکھ رہا ہوں، اور جو مققر اس مقابلہ میں شریک تھے، ان کا نام
لیکر ان کی غلطیاں اور اچھایئاں بیان کر رہا ہوں، اگر آپ لوگوں کو نام لینا مناسب
نہ لگے تو ضرور ٹوک دیجیئے گا ۔۔۔۔ کون سا آپ کے ٹوکنے سے میں رکنے والا ہوں ۔۔۔
ازراہ مذاق جناب ۔۔۔۔
کچھ
دنوں پہلے سر سید خواتین کالج میں مباحثہ میں منصفی کے فرائض سرانجام دینے کا موقع
ملا، اور میرے لیئے تھوڑا جذباتی لمحہ تھا کیوں کہ یہ ہی وہ کالج تھا کہ جہاں ۔۔
فوج سے واپس آنے کے بعد میں نے مباحثوں میں جیت کا آغاز کیا تھا ، لگاتار تین
سال تک ٹیم ٹرافی ۔۔۔ کیا زبردست دور تھا ۔۔۔۔ اب جذبات تو اچھے ہوتے ہیں لیکن
جذابتی ہونا اچھا نہیں ہوتا، اس لیئے جذبات کے اس دھارے کو میں یہیں پہ روکتا ہوں
اور منصفی شروع کرتا ہوں
قرارداد
تھی ۔۔۔۔حکمران نہیں ۔۔ نوجوان غدار ہیں ۔۔۔
پہلی
ٹیم تھی آغا خان کالج سے ۔۔۔۔۔ حرا عباس ۔۔ آپ نے بات کی ینگ ڈاکٹرز کی، اس کے
بعد اسلامی اقدار ۔۔۔ ویلینٹائینز ڈے ۔۔۔ اور میچ فکسنگ ۔۔ یہ سب آج کے نوجوان
کرتے ہیں ۔۔۔۔ جناب ینگ ڈاکٹرز جو کر رہے ہیں، اسے آپ بدمعاشی تو کہہ سکتی ہیں، لیکن
غداری نہیں، کیوں کہ مریضوں کا علاج نہ کر کے اور اپنے سینیئرز کی ٹھکائی کر کے وہ
بدمعاشی تو کرہے ہیں، مگر اپنی تنخواہ بڑھانے کے لئے دھرنا دے رہے ہیں، جو ان کا
حق ہے ۔۔۔
ماہم
منور ۔۔۔ آپ نے بات کی سوئس اکاونٹس کی اور کرپشن کی جو حکمران کرتے ہیں، تو یہ
کرپشن، سزا کے لائق تو ہے، لیکن وہ ہی بات ،، کے غداری نہیں ۔۔۔ پھر آپ نے عوام
اور حکمران کا موازنہ کیا ۔۔ قرارداد میں کہیں بھی، عوام کا لفظ نہیں، نوجوان کا
لفظ ہے ۔۔۔
لیکن
آپ دونوں کی روانی بہت اچھی تھی ۔۔ اور تلفظ بھی بہترین تھا ۔۔۔۔ بس ایک بات یاد
رکھیں، کہ گاڑی نہ ہی چوتھے گئیر میں اسٹارٹ ہوتی ہے، اور نہ ہی زیادہ دیر تک ایک
گئیر میں چل سکتی ہے ۔۔۔
پھر
ڈی یو ایچ ایس کی ٹیم تھی ۔۔۔ مریم اکرام ۔۔ آپ نے بہت سی مثالیں ماضی سے دیں کہ
ہمارے نوجوان تو بت شکن تھے، ٹیپو سلطان ، خالد بن ولید اور محمد بن قاسم جیسے تھے
۔۔۔ کیا آپ کو پتہ ہے، کہ بت شکن محمود غزنوی نے جب سومناتھ کا مندر فتح کیا، تو
اس وقت ان کی عمر کیا تھی؟ اور جب خالد بن ولید کی تلوار سے کفار کانپنا شروع ہوئے
تو اس وقت ان کی عمر کیا تھی؟ یہ سب نوجوانی سے بہت آگے نکل چکے تھے ۔۔۔
اچھی
بات یہ تھی کہ آپ کا تلفظ بھی صاف ہے اور روانی بھی اچھی ہے ۔۔۔۔ اس کو تھوڑا اور
پالش کرلیں تو اچھا رہے گا ۔۔۔
آپ
کیساتھ تھیں نرمین خالد ۔۔۔۔ آپ نے کیڑا کھائے ہوئے پودے کی اچھی مثال دی، آپ نے
نوجوان اور حکمران دونوں کو اچھا ڈیفائن کیا ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔۔ نرمین ۔۔۔ یوٹیوب میرے
پی سی پہ بھی کھلتا ہے ۔۔ امید ہے آپ سمجھ گئی ہوں گی ۔۔۔۔۔
اگلی
ٹیم تو نیہں یاد، ہاں مقررہ کا نام ہے صغرا نواز اور سمعیہ عطیق ۔۔ اگر آپ لوگ فیس
بک پہ ہیں، تو مجھے نوٹیافائی کردیں تاکہ میں آپ کے منفی و مثبت پہلو بتاسکوں
اگلی
ہیں انم کرامت اور ارومہ، آپ سے بھی مندرجہ بالا درخواست ہے
پھر
ہیں حیا شاہ ۔۔۔۔ آپ نے نوجوان اور حکمران کا اچھا موازنہ کیا، مگر استفادہ حاصل
نہیں کیا جاتا، استفادہ کیا جاتا ہے، حاصل اضافی لادیا آپ نے ۔۔۔۔ یعنی ایکسٹرا ۔۔۔
اور ایکسٹرا صرف عائشہ سہیل پہ اچھا لگتا ہے ۔۔۔ اس کے علاوہ آپ نے ٹارگٹ کلر اور
بھٹہ خوری کرنے پہ نوجوان کو غدار ٹہرایا ۔۔۔ ٹارگٹ کلنگ یعنی قتل کرنے والے کو
قتل کی سزا دی جاتی ہے، غداری کی نہیں ۔۔۔۔
آپ
کے ہمراہ تھیں آسما نواز ۔۔۔۔ آپ نے تنور والے لڑکے کی مثال دی ۔۔۔۔ آپ کو مزید
اعتماد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تھوڑی اور روانی لائیں ۔۔۔۔
اگلے
تھے حسن طاہر ۔۔۔۔ تھوڑا سیریئیس ہو کہ مقابلوں میں آیا کریں دوست ۔۔ برا نہ مانیئے
گا ۔۔۔آپ نے شروعات اچھی کی ۔۔ مگر اس کے بعد ۔۔ یہ کیا ہوا ۔۔ کیسے ہوا ۔۔۔۔ کب
ہوا ۔۔ کیوں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو
آپ کیساتھ تھے ۔۔۔ انھیں بھی یہ ہی مشورہ ہے
اب
ہیں صبا انجم ۔۔ آپ نے بھی راہبر کو اچھی طریقے سے بتلایا ۔۔۔ اور ماضی سے
نوجوانوں کے کردار کو آج کے نوجوان کیساتھ ملایا ۔۔۔ مگر قرارداد میں ماضی نہیں
ہے ۔۔۔ نہیں ہے نہیں ہے نہیں ہے ۔۔۔ اور آپ کیساتھ تھیں مہوش ۔۔۔ مہوش آپ نے یونس
بٹ کی مثال دی ۔۔ سمجھ نہیں آئی ۔۔ اور شرمین عبید چنئیی کون سا نام ہے بھلا؟
اب
پی این ای سی کی ٹیم ۔ ام ایمن ۔۔۔ خاتون ۔۔۔۔ مائیک کون ٹھیک کرے گا ۔۔۔ میں ؟ یا
پھر کوئی اور ۔۔ آپ کی آدھی گفتگو ۔۔۔ مائیک ایڈجسٹمنٹ کی نظر ہوگئی ۔۔۔ آگے میں
کیا کہوں ۔۔ لیکن پھر آپ نے اچھا کیا ۔۔۔ اور آپ کیساتھ طالب ۔۔ جو شروع میں
تھوڑا ادھر ادھر ےو ہوئے ۔۔ مگر پھر مواد کو مظبوطی سے پکڑا اور کیا خوب پکڑا ۔۔۔۔
زبردست ۔۔۔
اچھا
ہی طلحہ سلیم اور سید ضیاالدین ۔۔۔ سر میں کچھ کہوں یا ؟؟؟؟؟؟ آئیندہ کیلئے خیال
رکھیں آپ دونوں اچھا بول سکتے ہیں یار
اب
ہیں سلمان یوسف ۔۔ ۔ بھائی ہندی و سنسکرت میں مقابلہ مباحثہ نہیں تھا ۔۔۔۔ سنگھاسن
۔۔۔۔ دوش ۔۔۔ اور پھر بیچ میں انارکی ۔۔۔۔۔
اب
ہیں حسان بٹ ۔۔۔ جنھوں نے بڑے عرصہ بعد محنت کی ۔۔۔ شکریہ آپ کا ۔۔۔۔ آپ نے
قراردر کو وزن کے حساب سے مسترد کیا ۔۔ اچھا کیا ۔۔۔ اور یہ ہی دوسروں سے آپ کو
امتیاز کرگئی ۔۔۔۔
رافعیہ
اعوان آپ نے پورا ایک منٹ چھوڑا ۔۔ اور پھر بعد میں ہمیں نہیں چھوڑا ۔۔۔۔ آپ اپنی
غلطیوں پہ غور کریں ۔۔ نہ کہ منصفی پہ شک
جویریہ
اختر ۔۔۔ آپ نے بھی اچھا کیا، اور روانی اچھی رہی ۔۔ آپ کو پہلی اور آخری مقررہ
رہیں جس نے غداری کو ڈیافئن کیا ۔۔۔ یعنی آرٹیکل چھ ۔۔۔ پھر زلزلہ زدگان شاہ زہب
اور دیگر مثالیں بھی دیں ۔۔۔ اچھا رہا
ابو
طلحہ ۔۔ ایک الیکشن والے نکتہ کو آپ نے ڈیڑھ منٹ دیا ۔۔ ڈیڑھ منٹ بہت ہوتا ہے ۔۔۔
اتنا لمبا نہ کھینچو یار
ثوبان
بیگ ۔۔۔ زبردست روانی ۔۔۔ اور ایک کے بعد ایک دلائل ۔۔۔ اچھا رہا
شہزادی
کنول ۔۔۔۔۔ اس بار دھیمی رہی ۔۔۔
بھائی
۔۔۔ اگر اوپر کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت کیوں کہ دل آزاری کا کہیں سے بھی
ارادہ نہیں تھا ۔۔ یہ بس ایک کوشش تھی، آپ سب تک ایک ہی وقت میں ایک ساتھ پہنچنے
کی ۔۔ اور یہ بتانے کی کیا کچھ اس دن رہ گیا جس کی وجہ سے آپ نہ جیت سکے ۔۔۔۔
قرارداد
میں نہ ہی لفظ پاکستان کے نوجوان اور حکمران تھا، نہ ہی لفظ تھا یا ہوگا ۔۔۔۔۔۔
لفظ تھا ہیں، یعنی حمکران نہیں نوجوان غدار ہیں ۔۔۔ لفظ ہیں آج کے زمانے کی بات
کرتا ہے ، تو پھر ماضی کی مثالیں؟ غداری کو اتنا زیادہ کسی نے بیان نہیں کیا ۔۔۔۔
شاہ رخ اور کترینہ کو فالو کرنے والا نوجوان بے راہ روی کا شکار تو ہوسکتا ہے، مگر
غدار کیسے؟ یہ کسی نے نہیں بتایا ۔۔۔ اور اگر حکمران غدار تو کسی نے مارشل لا کا
تذکرہ نہیں کیا؟ آئین کو توڑنے کا ذکر نہیں کیا؟ یہ وہ تمام باتیں ہیں جن کا خیال
آپ کو رکھنا چاہیئے تھا ۔۔ لیکن کوئی بات
نہیں ۔۔۔ اگلی بار صحیح ۔۔۔۔۔
بھائی۔۔
اگر کسی کو بھی برا لگا ہو ۔۔ تو فیس بک پہ گالیاں مت دینا ۔۔۔۔ بس کہہ دینا آئیندہ
ایسی جرات نہیں ہوگی ۔۔ اور جو لوگ سراہنا چاہیں ۔۔۔ تو جلدی کریں یار کہیں آپ کا
مائینڈ چینج نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔
اپنے
رائے سے ضرور آگاہ کریں
شکریہ
Subscribe to:
Posts (Atom)

.jpg)
.jpg)


