فیصل کریم مردہ باد، فیصل کریم نامنظور، ظلم کے یہ ظابطہ ہم نہیں مناتے، فیصل کریم نئے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے،اس لئے مردہ باد مردہ باد،،،، میں ان اقسام کے نعروں سے ہی ڈرا ہوں نہ ڈرتا ہوں، نہ ہی کوئی فرق
پڑتا ہے ۔۔۔۔
کیوں کہ، جو میں ڈائس پہ تقریر کرتے ہوئے بولتا ہوں، وہ ڈائس سے نیچے آکر نہ بولوں، تو قول و فعل میں تضاد ہو، اور جس کے قول و فعل میں تضاد ہو ۔۔ اسے کیا کہتے ہیں، یہ آپ سب جانتے ہیں ۔۔۔ کچھ دنوں سے مختلف مقابلوں میں جانا ہو رہا ہے، بحیثیت منصف، اور یقین مانیں، کہ دل بہت کڑھ رہا ہے ۔۔۔ اس وجہ سے نیہں کہ لوگ ہار جاتے ہیں، یا اچھی تقاریر سننے کو نہیں ملتیں، یا کچھ اور، بلکہ اس لیئے، کہ تقاریر ہارنے کے بعد جو رونا دھونا، الزام تراشی اور میں نہ مانوں والی رٹ لگی ہوئی ہے ۔۔ غلط ہے ۔۔۔۔ وہ ہی پرانی تقاریر، وہ ہی پرانے پتہ جات ۔۔۔۔ اور اگر اصلاح کے لیئے کچھ کہیں، تو آگے سے سننے کو ملتی ہے ۔۔۔
مجھےسمجھ نہیں آتا ۔۔ کہ یہ مباحثہ، صدر بازار میں لگی ہوئی لوٹ سیل کیوں بنتی جارہی ہے؟ کوئی بھی کچھ بھی بول کے چلا جائے، اور پھر یہ سمجھے واہ واہ کیا بولا ہے ۔۔۔۔ کبھی یو ٹیوب اسپانسرڈ تقاریر، کبھی پرانے پتہ جات، نہ اخبارات کا کوئی حوالہ، نہ ہی کسی اچھے ادیب کا کوئی تراشہ، نہ ہی نئے شعرا کا کوئی ٹکڑا ۔۔۔ تو بھائی باتیں نئے انقلاب کی، اور تقاریر وہ ہی پرانی ۔۔۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
بات منظر نگاری یعنی ڈکلیمیشن کی ۔۔۔۔ بھائی اگر آپ نے ماحول بنا کر سامع کو سحر مین جکڑنا ہے تو ممتاز مفتی کو پڑھیں ۔۔۔ اگر براہ راست کردار کی منظر نگار کرنی ہے تو منٹو سے بہتر کوئی نہیں، اگر منظر نگاری میں رنج و الم، عشق و محبت، حب الوطنی و غداری کے مزید ثقیل رنگ بھرنے ہیں تو خلیل جبران حاضر ہیں، حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے تو اخبارات کا رخ کریں اور آرٹیکلز پڑھیں، تواریخ کے حوالہ جات کے لیئے نذیر لغاری کا آرٹیکل تو ہے ہی، حکومتی ارکان کو نشانہ بنانا ہے تو جیو حسن نثار ۔۔۔۔ پھر آتے ہیں شعرا پہ، اقبال کی جان چھوڑ دیں اور ان چند منظومات کی بھی ۔ تم نے ہر عہد میں ہر نسل سے غداری کی، آؤ کھیلیں دشمن دشمن، یہ بات عیاں ہے دنیا پہ
ہم پھول بھی ہیں تلوار بھی ہیں، سولہ کروڑ بھکاری ہیں ۔۔۔ بس کریں ۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔۔
اب بات یہ بھی ہے کہ یار، مجھے کیا فکر پڑی ہے، میں کیوں اپنا خون جلا رہا ہوں ۔۔۔۔ سر جی مجھے آپ کی نہیں، ان نئے آنے والے اسکول اور کالجز کے بچوں کی فکر ہے، جنھیں کل کو جامعات میں آکر باگ ڈور سنبھالنی ہے ۔۔۔ ایک مقرر صرف گفتار کا غاضی نہیں، کردار کا بھی غاضی ہوتا ہے، اور جب تک اس میں نئی چیزیں پڑھنے کا شوق پیدا نہیں ہوگا، اس کی کرادر کی تعمیر کیسے ممکن ہوگی؟
ہم پھول بھی ہیں تلوار بھی ہیں، سولہ کروڑ بھکاری ہیں ۔۔۔ بس کریں ۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔۔
اب بات یہ بھی ہے کہ یار، مجھے کیا فکر پڑی ہے، میں کیوں اپنا خون جلا رہا ہوں ۔۔۔۔ سر جی مجھے آپ کی نہیں، ان نئے آنے والے اسکول اور کالجز کے بچوں کی فکر ہے، جنھیں کل کو جامعات میں آکر باگ ڈور سنبھالنی ہے ۔۔۔ ایک مقرر صرف گفتار کا غاضی نہیں، کردار کا بھی غاضی ہوتا ہے، اور جب تک اس میں نئی چیزیں پڑھنے کا شوق پیدا نہیں ہوگا، اس کی کرادر کی تعمیر کیسے ممکن ہوگی؟
تو اب جس جس کو نوارد کہنا ہے، نوسکھیا کہنا ہے، مردہ باد کے نعرے لگانے ہیں، ان کے لئے ۔۔۔
نوٹس ملیا ۔۔
ککھ نہ ہلیا ۔۔۔
کی سوہنڑیا دا گلا کراں
میں لکھ واری بسم اللہ کراں
یہ کونسے مفتی محمود ہیں جن کی بات آپ کر رہے ہیں؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر انکا کوئی کلام آن لائن موجود ہے تہ یہاں پوسٹ کر دیں۔
ReplyDeleteشکریہ
جلد بازی کے لیئے معذرت، ممتاز مفتی کی جگہ مفتی محمود لکھ ڈالا، تصیح کے لیئے بہت بہت شاکر ۔۔۔
Delete