Tuesday, 2 April 2013

ٓآزاد میڈیا ۔۔ اصلاح سے زیادہ باعث بگاڑ


آج کی تازہ خبر تازہ خبر تازہ خبر ۔۔ ویسے محمد علی جناح میں ہونے والے مباحثہ کی خبر اگر کسی اخبار میں لگتی تو سرخی کچھ یوں ہوتی ۔۔۔ دست شفقت سے بھرپور مباحثہ ۔۔ عابد علی امنگ کی شفقت بھری صدارت ، اقرار الحسن کی شفقت بھری خصوصی آمد اور راحیل اختر اور فیصل کریم کی شفقت بھری  منصفی میں منعقد کیا گیا ۔۔۔ برائے مہربانی اس خبر پڑھنے والے دیکھ مگر پیار سے ۔۔ معاف کیجئے گا، دیکھ مگر شفقت سے کے سنہری اصول پہ کاربند ہوتے ہوئے پڑھیں ۔۔۔۔
J
بھائی شہریار برا نہ ماننا ۔۔۔
خیر تو محمد علی جناح یونیورسٹی نے روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بین الجماعتی اردو مباحثہ کا انعقاد کیا ۔۔ اور حسب روایت میں نے بھی رات ک اس پہر بلاگ لکھنے کا آغاز کیا ۔۔۔
ایوان میں قرارداد پیش کی گئی تھی ۔۔۔ آزاد میڈیا ،، اصلاح سے زیادہ باعث بگاڑ ۔۔۔۔۔ کچھ نئے بہت سے پرانے مقررین نے اس قرارداد کی حق اور مخالفت میں دلائل پیش کیئے ۔۔ کچھ کو دیکھ اور سن کے کہا جاسکتا تھا کہ یہ پہلی پوزیشن پہ آسکتا ہے، وہ دوسری پوزیشن پہ آسکتا ہے، وہ تیسری پوزیشن پہ آسکتا ہے، اور کچھ کے بارے میں لگا کہ یہ کسی پوزیشن پہ آئے نہ آئے ۔۔ ٹرک کے نیچے ضرور آسکتا ہے ۔۔۔
خیر تو دوبارہ بات کرتے ہیں قرارداد کی ۔۔ اور میں خاص طور پہ کافی پرجوش تھا ۔۔ کیوں کہ مجھے پتہ تھا کہ آج سارے نشتر ٹی وی کی جانب ہوں گے۔۔ اور میڈیا یعنی ابلاغ کے باقی تمام حصوں کو گول کرجائیں گے ۔۔ کیوں کہ ٹی وی دیکھنا آسان ہے ۔۔ اور ریسرچ کرنا مشکل ۔۔۔ ایسا ہی ہوا ۔
مجھے اس بات کا بھی اندازہ تھا کہ نہ صرف ۔۔۔ صرف ٹی وی ڈبے کا ڈبہ بجایا جائے گا، بلکہ بجائے جانے کی کوشش صرف پاکستان تک  محدود رہے گی ۔۔ بھائی قرارداد میں کہاں لکھا ہے کہ پاکستان کا آزاد میڈیا ۔۔ اصلاح سے زیادہ باعث بگاڑ ۔۔۔۔

تاخیر کے لیئے معذرت ۔۔ کیوں کہ کچھ بریکنگ نیوز نے لکھنے کا موقع نہ دیا ۔۔ پھر ہمارے جامعہ جامشورو کے دوستوں نے 
ہمیں اگلے ہی دن ایک ٹریننگ سیشن کے لیئے مدعو کیا ہوا تھا ۔۔ اس لیئے اب کچھ فرصت ملی ہے ۔۔
ابھی بھی میں پورا نیہں لکھ رہا، یہ اس سلسلے کا پہلا بلاگ ہے ۔۔۔ اور دوسرا یعنی آخری بلاگ آج رات ۔۔ اگر کوئی بریکنگ نہ آئی تو ۔۔۔

شروع کرنے سے پہلے ۔۔۔ آپ تمام لوگوں کی نظر ایک پڑھا لکھا شعر

شکوہ ظلمت شب تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے

اور اب ایک دوسرا ۔۔ تھوڑا کم پڑھا لکھا ۔۔ شعر کہیں یا جو بھی

محنت کر
حسد نہ کر

اب بھائی اپنے اپنے حساب سے سمجھ لیں ۔۔۔ سمجھ تو گئے ہوں گے

سب سے پہلے تشریف لائے بحریہ کالج کارساز سے محمد سلمان ۔۔ آپ نے قرارداد کو ٹھیک طریقہ سے کھولا،جس کے بعد آپ نے آزادی پہ بھرپور توجہ سے گفتگو کی اور بتایا کہ آزادی کا مطلب کیا ہوتا ہے، آپ کے مواد کا کچھ حصہ عامر لیاقت حسین کی کتاب لاؤڈ سپیکر سے لیا گیا ۔۔۔ جو اس بات کو سامنے لاتا ہے کہ آپ مختلف چیزیں پڑھتے ہیں ۔۔۔ آپ کا ایک اور نکتہ اچھا تھا کہ رات میں ٹارگٹ کلنگ کی خبر اور صبح مارننگ شو تضاد ہے ۔۔آپ نے رد دلائل نہیں دیئے ۔۔ وہاں آپ تھوڑے چوک گئے ۔۔

اس کے بعد منصور علی سموں ۔۔ آپ نے مجموعی طور پہ کافی اچھا کیا ۔۔۔۔قرارداد بھی کھولی، اور رد دلائل بھی دیئے
اس کے علاوہ وقت پہ مواد کا اختتام کیا ۔۔ آپ پر اعتماد بھی تھے اور روانی زباں بھی آپ کا خاصہ رہی، اپنی محنت جاری رکھیں، کیوں کہ آپ بس ایک آدھے نمبر سے رہ گئے

پھر تھی پی این ای سی کی ٹیم ۔۔۔ میرے دونوں فوجی دوست طالب اور بشیر ۔۔۔ آپ میں سے ہی کوئی اول یا دوم آسکتا تھا ۔۔ لیکن جیسے میں نے کہا کہ مسجد میں جانے کے آداب کچھ ۔۔ اور مہ کدے  میں جانے کے کچھ اور ہوتے یہں ۔۔ آپ دونوں کا مواد زبردست تھا ۔۔ لیکن میں کیا کروں جب آپ دونوں مباحثہ کا آغاز ڈکلیمیشن کے انداز سے کریں

طالب آپ نے ہمارے میڈیا کی بات کی ۔ قرارداد میں ہمارا میڈٰا نہیں تھا، آزاد میڈیا تھا، اس کے علاوہ مکار نشریات، صحافی کا قلم بک جانا، ٹی وی چینلز کی راجیش کھنہ، سنجے دت کو زیادہ وقت دینا اور ایم ایم عالم کو وقت نہ دینے کا ذکر کیا ۔۔ اور یہ بھی کہ اس میڈیا کیخلاف بھی ایک آپریشن راہ راست ہونا چاہیئے

بشیر الیاس آپ نے اس بات پہ زور دیا میڈیا نے ایسے نکتہ اٹھائے جو انصاف طلب تھے یعنی شاہ زیب کیس اور جس پہ اعلٰی عدلیہ نے از خود نوٹس لیئے ۔۔۔ مجموعی طور پہ دونوں کا اعتماد باڈی لینگویج روانی تمام چیزیں بہترین تھیں ۔۔ بس انداز تکلم کا آئیندہ خیال رکھیں

پھر تھیں عبیرہ عارف ۔۔ وہ ہی مسئلہ کہ آغآٓز مباحثہ والا نہیں تھا ۔۔۔ کیوں کہ جب آپ بحث کرنے آتے ہیں تو کوئی بھی لگی لپٹی گول گول باتیں سننے کے لیئے نہیں بیٹھا ۔۔ جب محبت فریب بن جائے ۔۔ تو اس میں میڈیا کہاں سے آیا ۔۔ اس کا دھیان رکھیں ۔۔۔ آپ نے مواد اچھا لکھا ، پیمرا کا ذکر کیا، غلط بریکنگ نیوز، ارشد پپو ۔۔ ذمہ داری کس پہ عائد ہوتی ہے اس سوال کو بھی ایوان کے سامنے رکھا ۔۔ آپ کے انداز میں بہتری آرہی ہے ۔۔ اپنے رکنے کا انداز جسے انگریزی میں پازز کہتے ہیں، اس کو دورانیہ اور کم کریں

پھر تھے مرزا عطا
یوٹیوب زندہ باد ۔۔ اس سے آگے کیا کہوں ۔۔ بھائی عباسی ٹاؤن نیہں ہے ۔۔۔

پھر تھیں جامعہ کراچی سے مدرا ہمدانی ۔۔ 


آپ کس جانب سے بول رہی تھیں؟ موافقت یا مخالفت ؟ کیوں کہ آپ نے کہا کہ یہاں قائد ایوان نے آکر سچ بولنے والی صحافت کی تو بات ہی نہیں کی ۔۔۔ مگر ہاں، اپنی جذبات کی رو میں بہک کر
ایمان بیچنے والی صحافت کی بات کر گئے
اپنی جذبات نہیں، اپنے جذبات ۔۔ اور جذبات کی رو میں بہا جاتا ہے بہکا نہیں جاتا

میرے خیال سے آپ قائد حزب اختلاف کو مخاطب کرنے کے بجائے اپنے ہی قائد ایوان کو تنقید کا نشانہ بنا گیئں ۔
یہاں تکنیکی طور پہ آپ کے مواد میں تکرار پیدا ہوگئی
یہ کہاں لکھا ہے کالی صحافت میں قوم کی مت ماری گئ؟ زرد صحافت میں زرد کاری ۔۔ اس کا کیا مطلب ہے؟
یہ تو دلیل مکمل نہیں ہوئی

جہاں تک بات ہے مثبت پہلوؤں کی تو آپ پہلے سے زیادہ روانی میں بول رہی ہیں جو اچھی بات ہے ۔۔ آپ نے میڈیا کی اقسام بتائیں
ایمان بیچنے والی صحافت، قائد اعظم سیکولر تھے یا نیہں پہ ہونے والی بحث، مجموعی طور پہ پہلے سے بہتر

پھر تھیں رخشندہ قادری ۔۔ دیکھئے مباحثہ میں لفاظی کی ضرورت ہی نہیں، جب دلیل اور رد دلیل سے کام بن جائے تو فضول میں لفاضی کرنا ۔۔۔ بنتا نہیں ۔۔آپ تین بار رکیں ۔۔ کچھ تلفظ کی غلطی بھی تھی ۔۔۔ میں نے کہا آپ تین بار رکیں ۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مقابلوں میں آنا روک دیں ۔۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں ۔۔ تو آپ اپنے اس تجربہ کو میدام عمل میں لائیں، آئیندہ بہتر کرنے کی کوشش کریں ۔۔
 اچھا آپ نے اصلاح کو زیر کے بجائے زبر لگا کہ ادا کیا، جس سے اصلاح ۔۔ اسلحہ معلوم ہوا ۔۔ کوئی بات نہیں ۔۔ جب ہم ٹی وی پہ بیٹھ کے تلفظ کی اکا دکا غلطیاں کر سکتے ہیں، تو ہر کوئی کرسکتا ہے اس میں کوئی بات نہیں، ہاں لیکن پھر اس بات کا خیال رکھتے ہیں، کہ اگر اسی خبر میں لفظ دوبارہ آئے تو اس کی ادائی ٹھیک طریقہ سے کریں ۔۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ از خود تصیح ہوجاتی ہے، جس سے ناظر کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس اینکر کو یہ لفظ آتا تھا، زبان کی پھسلن سے ایک بار غلط بولنے کے بعد دوسری بار ٹھیک کرلیا ۔۔ اور ناظر کا ہم پہ اعتماد اور بڑھ جاتا ہے ۔۔ اسی چیز کو روسٹرم پہ آپ استعمال کریں، تو منصف کا اعتماد آپ پہ بڑھے گا کہ ٹھیک ہے ایک بار غلط ادائی ہوگئی ۔۔ واپس آکر اس نے ٹھیک بول دیا ۔۔ ہاں اگر دوسری تیسرے بار بھی غلط بولا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ گڑبڑ ہے ۔۔۔ 

چلیں اسی بہانے پڑھنے والوں کو بتاتا چلوں کہ ادائیگی لفظ غلطالعام ہے ۔۔ ٹھیک لفظ ادائی ہے ۔۔۔

پھر تھی جامعہ بحریہ کی ٹیم عمارہ اور شہیرہ ۔۔ عمارہ اگلی بار مزید محنت ۔۔۔۔۔
شہیرہ آپ کا اعتماد بہت بہت اچھا ہے ۔۔ مگر وہ ہی بات، کہ ہر جگہ بات کرنے کا سلیقہ و طریقہ مختلف ہوتا ہے ۔۔ آپ نے جو پارلیمانی مباحثہ کا مجھر حوالہ دیا، اس کا ذکر یہاں نہیں کروں گا ۔۔۔ کیوں کہ وہ آپس کی بات ہے ۔۔۔ سیٹھی صاحب والی نہیں مگر ہماری ذاتی گفتگو اس لیئے یہاں اس کا تذکرہ مناسب نہیں سمجھتا ۔۔ آپ کا مواد اچھا تھا اور میں امید کرتا ہوں کہ آئیندہ آپ اس پہ سوچیں گی ضرور جو مباحثہ اور پارلیمانہ مباحثہ کے حوالے سے میں نے آپ کو بتانے کی کوشش کی

پھر تھیں جامعہ کراچی سے شان زہرہ ۔۔۔ بھئی دوسرے کی اصلاح تو 
کردی، مگر خود کی چڑیا کو غلط بٹھا دیا

:)
 مجموعی طور پہ اچھا تھا ۔۔ خاص کہ وہ نکتہ کہ میڈیا متاثر تو کرسکتا ہے مگر تاثیر پیدا نہیں کرسکتا اور جو تاثیر پیدا نہ کرسکے وہ کتحرک نہیں ہوتا اور جو متحرک نہ ہو وہ تبدیلی نیہں لاسکتا، آزادی پہ بھی آپ نے گفتگو کی ۔۔ اچھا رہا

پھر تھیں زونا نقوی ۔۔۔ پرچہ سے دیکھ کہ نہ پڑھیں، یہ بیساکھی ہے اسے پھینک دیں


تحریر جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔


6 comments:

  1. JAZAKALLAH for thorough analysis
    will take care next time about the difference of declaimation and debate

    ReplyDelete
  2. S/Lt Talib AAhmed PN (PNEC-NUST)

    ReplyDelete
  3. Thank u so much sir
    I'll be careful next time for the beginning and pauses

    ReplyDelete
  4. Faisal Bhai ap nay ya kam acha kara ka sab ko un ki mistakes bta diennn.... and this is the best way to show the mistakes through which new debaters can learn alot......

    ReplyDelete